LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار پیپلز پارٹی کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کررہی ہے، عظمیٰ بخاری کا الزام بلاول بھٹو کی کشمیریوں سے بذریعہ ووٹ فیصلہ کرنے کی اپیل بانی پی ٹی آئی رہائی فورس معاملہ: سہیل آفریدی کا آئینی عدالت میں جواب جمع یوکرین بالآخر اپنے مغربی علاقے کھو دے گا: صدر پوتن کا دعویٰ لاہور ہائیکورٹ نے مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر دیا ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ہوئے: پینٹاگون بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد، کسی بھی مہم جوئی کیلئے تیار ہیں: دفتر خارجہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، خودمختاری کا دفاع ترجیح ہے: ایران گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ قرار

Web Desk

15 December 2025

افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑا گیا بھاری مقدار میں فوجی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا ایک سنگین اور خطرناک سبب بن چکا ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے دوران تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان افغانستان میں رہ گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس اسلحے میں چار لاکھ 27 ہزار سے زائد ہلکے ہتھیار، نائٹ ویژن ڈیوائسز، تھرمل آلات اور دیگر جدید جنگی سازوسامان شامل تھا۔ دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ جدید آلات طالبان کے قبضے میں چلے گئے، جو اب ان کی بنیادی عسکری طاقت کا حصہ بن چکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2021 میں طالبان نے تقریباً 10 لاکھ کے قریب فوجی سازوسامان پر قبضہ کیا تھا، تاہم طالبان نمائندوں کے مطابق اس ذخیرے کا کم از کم نصف حصہ اب لاپتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ فروخت، اسمگل یا ضائع ہو چکا ہے، جس سے خطے میں سلامتی کے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق کابل اور قندھار میں اسلحے کی غیر قانونی منڈیاں اس پھیلاؤ کی واضح مثال بن چکی ہیں، جبکہ یہ ہتھیار سرحد پار شدت پسند گروہوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کے سب سے زیادہ فوری اور مہلک اثرات پاکستان کو درپیش ہیں۔

جدید ہتھیاروں تک رسائی کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں کی شدت اور مہارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان میں ضبط کیے گئے متعدد ہتھیاروں کے سیریل نمبر افغان فورسز کو فراہم کیے گئے امریکی ہتھیاروں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ زمینی حملوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز اور مسلح کواڈ کاپٹرز کے استعمال کے خطرات بھی بڑھ چکے ہیں، جبکہ نائٹ ویژن اور تھرمل صلاحیتوں نے دہشتگردوں کی کارروائیوں کو مزید مہلک بنا دیا ہے۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاک فوج دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر بھرپور مزاحمت کر رہی ہے، تاہم رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو کابل کی ڈی فیکٹو اتھارٹیز سے لاجسٹک اور ٹھوس معاونت ملتی رہی ہے۔ افغانستان میں شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے اور اسلحے کی کھلی دستیابی پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں اسلحے کے غیر قانونی پھیلاؤ اور دہشتگردی کے خطرات پر فوری اور مؤثر توجہ دی جائے۔ ہتھیاروں کی ٹریکنگ، غیر قانونی اسلحہ منڈیوں کے خلاف کارروائی اور طالبان پر دباؤ کو خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔