LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال مؤثر سفارتکاری اور امن سے پاکستان کا عالمی تشخص مضبوط ہوا: فیصل کریم کنڈی اسرائیل کو خطے کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: صدر اردوان

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ قرار

Web Desk

15 December 2025

افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑا گیا بھاری مقدار میں فوجی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا ایک سنگین اور خطرناک سبب بن چکا ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے دوران تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان افغانستان میں رہ گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس اسلحے میں چار لاکھ 27 ہزار سے زائد ہلکے ہتھیار، نائٹ ویژن ڈیوائسز، تھرمل آلات اور دیگر جدید جنگی سازوسامان شامل تھا۔ دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ جدید آلات طالبان کے قبضے میں چلے گئے، جو اب ان کی بنیادی عسکری طاقت کا حصہ بن چکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2021 میں طالبان نے تقریباً 10 لاکھ کے قریب فوجی سازوسامان پر قبضہ کیا تھا، تاہم طالبان نمائندوں کے مطابق اس ذخیرے کا کم از کم نصف حصہ اب لاپتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ فروخت، اسمگل یا ضائع ہو چکا ہے، جس سے خطے میں سلامتی کے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق کابل اور قندھار میں اسلحے کی غیر قانونی منڈیاں اس پھیلاؤ کی واضح مثال بن چکی ہیں، جبکہ یہ ہتھیار سرحد پار شدت پسند گروہوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کے سب سے زیادہ فوری اور مہلک اثرات پاکستان کو درپیش ہیں۔

جدید ہتھیاروں تک رسائی کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں کی شدت اور مہارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان میں ضبط کیے گئے متعدد ہتھیاروں کے سیریل نمبر افغان فورسز کو فراہم کیے گئے امریکی ہتھیاروں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ زمینی حملوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز اور مسلح کواڈ کاپٹرز کے استعمال کے خطرات بھی بڑھ چکے ہیں، جبکہ نائٹ ویژن اور تھرمل صلاحیتوں نے دہشتگردوں کی کارروائیوں کو مزید مہلک بنا دیا ہے۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاک فوج دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر بھرپور مزاحمت کر رہی ہے، تاہم رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو کابل کی ڈی فیکٹو اتھارٹیز سے لاجسٹک اور ٹھوس معاونت ملتی رہی ہے۔ افغانستان میں شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے اور اسلحے کی کھلی دستیابی پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں اسلحے کے غیر قانونی پھیلاؤ اور دہشتگردی کے خطرات پر فوری اور مؤثر توجہ دی جائے۔ ہتھیاروں کی ٹریکنگ، غیر قانونی اسلحہ منڈیوں کے خلاف کارروائی اور طالبان پر دباؤ کو خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔