LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک کے کئی شہروں میں شدید گرمی کا الرٹ، ہیٹ سٹروک کا خدشہ امریکی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کر دیا: ایرانی نائب وزیر خارجہ مشترکہ مفادات کونسل کے53ویں اجلاس کی تیاریوں کاتفصیلی جائزہ مری میں حکمران جماعت کی اہم بیٹھک، سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت نارووال کو علم کی بستی میں تبدیل کر دیا ہے:احسن اقبال مولانا کا بیان سمجھ سے بالاتر،فوج کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں: ملک احمد خان پاکستان کا بڑا اقدام؛ بھارتی رجسٹرڈ اور فوجی طیاروں پر فضائی حدود کی پابندی میں 24 اگست 2026 تک توسیع جیٹ فیول کی قیمت میں 40 روپے 35 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ؛ ہوائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان، فیفا کا ورلڈ کپ فاتح سکواڈ کو پہلی بار ٹرافی و میڈلز کیساتھ خصوصی چیمپئن رنگز دینے کا اعلان پاکستان میں دھکے کے بغیر کوئی چیز نہیں چلتی: خواجہ آصف سوات میں گلیشیئر پھٹ گیا، تین کوہ پیما زخمی، ایک لاپتا ٹرمپ کا ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن پر غور، درجنوں طیارے اسرائیل روانہ پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل پر لیوی برقرار، نوٹیفکیشن جاری ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فی صد اضافے کا اعلان امریکی فضا آلودہ کرنے پر کینیڈا کو بھاری ٹیرف ادا کرنا ہوگا، صدر ٹرمپ

دو ہفتوں میں یو اے ای پر 1797 حملے، 1514 ڈرون اور 268 میزائل تباہ

Web Desk

12 March 2026

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے 28 فروری سے 11 مارچ 2026 تک ملک پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی تفصیلات جاری کی ہیں، جن کے مطابق اس عرصے میں مجموعی طور پر 1797 حملے کیے گئے، جنہیں فضائی دفاعی نظام نے بڑی حد تک ناکام بنایا۔

وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق اس دوران 268 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور 1514 ڈرونز فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے، جس سے اہم تنصیبات کو بڑے نقصان سے بچایا گیا۔ ابتدائی مرحلے میں دفاعی نظام نے زیادہ تر خطرات ناکام بنائے، تاہم کچھ علاقوں میں گرنے والے ملبے سے محدود مادی نقصان ہوا۔

سرکاری معلومات کے مطابق مارچ کے پہلے ہفتے میں بھی وقفے وقفے سے حملے جاری رہے، جنہیں دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کیا۔ ان واقعات میں دو پاکستانیوں سمیت 6 افراد جاں بحق اور 131 زخمی ہوئے۔

وزارتِ دفاع کے تازہ ترین بیان میں بتایا گیا کہ 11 مارچ کو بھی بیلسٹک، کروز میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے گئے، جس کے بعد مجموعی حملوں کی تعداد 1797 تک پہنچ گئی۔

حکام نے کہا کہ سکیورٹی صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری ہے اور دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب، یو اے ای کی قیادت نے اتنی بڑی تعداد میں حملوں کے باوجود امن اور سفارتی کوششوں کو جاری رکھا اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی پالیسی اپنائی۔