LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی تجارتی جہازوں کے نقصان کا ازالہ ایران کے منجمداثاثوں سے کیا جائے گیا، نقصانات ایرانی رقم سے پورے کیے جائیں گے: ٹرمپ ایران کے شہر بندر عباس اور جزیرہ قشم میں دھماکوں کی اطلاعات امریکا کی ایران پر جارحیت جاری، بندرعباس اور اہواز دھماکوں سے گونج اٹھے میری ٹائم آرگنائزیشن نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملے سنگین خطرہ قرار دیدیئے امریکی شہریوں کیلئے مشرق وسطیٰ سے متعلق سفری ہدایات جاری کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج رنگ لانے لگا، مودی سرکار طلبہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کویت کی ایرانی حملوں کی شدید مذمت، علاقائی امن کیلئے براہِ راست خطرہ قرار دیدیئے بحری ناکہ بندی کا منصوبہ الٹا امریکا کیلئے نقصان دہ ثابت ہوا: محمد باقر قالیباف امریکی انتظامیہ کے بعض عہدیدار زمینی حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں: عباس عراقچی امریکی صدر کی دھمکیاں مایوسی کی علامت ہیں: ایران کا ٹرمپ کے بیان پر ردعمل سندھ میں کل تک شدید بارشوں کا امکان، 23 اضلاع کیلئے موسمیاتی ایڈوائزری جاری اسرائیل کے غزہ میں فضائی حملے، مزید 2 فلسطینی شہید، کئی مکان تباہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کی برطانوی پارلیمنٹ میں بھی گونج غزہ میں غذائی بحران شدت اختیار کرنے کا خدشہ، اقوام متحدہ کی نئی وارننگ

ابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی

Web Desk

24 July 2026

امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ایران میں ممکنہ جنگی اقدامات سے گریز کرنے کے اشاروں اور مخالفت کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور بڑے فوجی آپریشن کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘ایکزیوس’ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں اب تک ایران کو کچھ زیادہ بڑا نقصان یا “تکلیف” نہیں پہنچی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ ایران کے اندر مزید بڑی عسکری کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آگے کی جانے والی نئی کارروائیاں “آپریشن ایپک فیوری” (Operation Epic Fury) سے بھی کہیں زیادہ شدید اور بڑی ہو سکتی ہیں۔

تاہم، نئے اور انتہائی سخت حملوں کا انتباہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے یہ واضح بھی کیا کہ فی الحال انہوں نے ان آئندہ اور بڑے حملوں کا کوئی باضابطہ حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔