LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لاہور کے نجی ہوٹل سے غیر ملکی شہری کی لاش برآمد ملک کے کئی شہروں میں شدید گرمی کا الرٹ، ہیٹ سٹروک کا خدشہ امریکی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کر دیا: ایرانی نائب وزیر خارجہ مشترکہ مفادات کونسل کے53ویں اجلاس کی تیاریوں کاتفصیلی جائزہ مری میں حکمران جماعت کی اہم بیٹھک، سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت نارووال کو علم کی بستی میں تبدیل کر دیا ہے:احسن اقبال مولانا کا بیان سمجھ سے بالاتر،فوج کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں: ملک احمد خان پاکستان کا بڑا اقدام؛ بھارتی رجسٹرڈ اور فوجی طیاروں پر فضائی حدود کی پابندی میں 24 اگست 2026 تک توسیع جیٹ فیول کی قیمت میں 40 روپے 35 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ؛ ہوائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان، فیفا کا ورلڈ کپ فاتح سکواڈ کو پہلی بار ٹرافی و میڈلز کیساتھ خصوصی چیمپئن رنگز دینے کا اعلان پاکستان میں دھکے کے بغیر کوئی چیز نہیں چلتی: خواجہ آصف سوات میں گلیشیئر پھٹ گیا، تین کوہ پیما زخمی، ایک لاپتا ٹرمپ کا ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن پر غور، درجنوں طیارے اسرائیل روانہ پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل پر لیوی برقرار، نوٹیفکیشن جاری ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فی صد اضافے کا اعلان

واشنگٹن میں ٹرمپ اور جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کا مجسمہ نصب

Web Desk

12 March 2026

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک متنازع مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ فلم ٹائی ٹینک کے مشہور منظر کی طرز پر دکھایا گیا ہے۔

اس مجسمے کو ’کنگ آف دی ورلڈ‘ کا نام دیا گیا ہے جو فلم ٹائی ٹینک کے اس معروف منظر کی عکاسی کرتا ہے جہاں مرکزی کردار جہاز کے اگلے حصے پر کھڑے ہوتے ہیں۔ مجسمے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جیفری ایپسٹین کو تھامے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ اطراف میں بینرز اور تختیاں بھی نصب کی گئی ہیں جن پر دونوں شخصیات کی تصاویر اور طنزیہ پیغامات درج ہیں۔

یہ انسٹالیشن فنکارانہ گروپ ’دی سیکرٹ ہینڈ شیک‘ نے تیار کی ہے جو اس سے قبل بھی ٹرمپ اور ایپسٹین کے مبینہ تعلق پر تنقیدی نوعیت کے مجسمے نصب کر چکا ہے۔ اس فن پارے میں طنزیہ انداز میں دونوں شخصیات کے تعلق کو فلم کے کرداروں جیک اور روز سے تشبیہ دی گئی ہے۔

یہ مجسمہ واشنگٹن کے نیشنل مال کے مقام پر نصب کیا گیا ہے جس کے بعد سیاسی، سماجی اور فنکارانہ حلقوں میں اس پر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ بعض افراد نے اسے اظہار رائے کی آزادی کی علامت قرار دیا ہے جبکہ دیگر نے اسے نامناسب اور متنازع تنقید قرار دیا ہے۔