LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا اعلان کردیا اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت حکومت اور اپوزیشن ارکان کا اہم جرگہ، سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری پیٹرول سبسڈی اور گیس کمپنیوں کے واجبات پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ڈیڈلاک برقرار علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سربراہی میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کی شاہد خاقان عباسی سے ملاقات، اے پی سی میں شرکت کی دعوت مدینہ منورہ پر حملہ عالم اسلام کے دل اور عقیدے پر حملہ ہے، مسلم حکمران مصلحتیں بالائے طاق رکھ کر مضبوط اتحاد قائم کریں: مولانا فضل الرحمان کرک میں گیس کنکشن کرتے ہوئے دھماکہ، مکان کا ایک حصہ منہدم، 4 افراد جاں بحق پاکستان کی مدینہ پاور سٹیشن پر حوثی حملے کی مذمت، سعودیہ سے اظہارِ یکجہتی طلبہ وفد کا واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کا دورہ، سفارتی کردار میں اظہار دلچسپی مدینہ پاور سٹیشن پر حوثی حملے کے بعد یمنی فوج کی دارالحکومت صنعا میں کارروائی اماراتی پرواز واقعہ میں ایران ملوث ہوا تو اسے بہت سخت نشانہ بنایا جائے گا: ٹرمپ امریکی ریاست نیو جرسی کی مارلبورو ٹاؤن شپ پر مسجد کی تعمیر سے انکار پر وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان مذاکرات آج ہوں گے حوثی ملیشیا کے 2 میزائل، 4 ڈرونز فضا میں ہی تباہ کر دیئے: ترجمان اتحادی افواج ٹرمپ کے ایرانی فوج کے مکمل تباہ ہونے کے بیان میں کوئی صداقت نہیں: مجید ابن رضا ڈیزل کی قیمتیں ایک سال تک معمول پر نہیں آسکیں گی: امریکی کمپنیوں نے خبردار کر دیا

پھینکے ہوئے آلو اب بنیں گے بیوٹی کریم کا خزانہ، سائنسدانوں کی حیران کن تحقیق

Web Desk

3 December 2025

اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ابردین کے سائنسدانوں نے آلو کے اُن پتوں اور ٹہنیوں، جنہیں عام طور پر فصل کی کٹائی کے بعد پھینک دیا جاتا ہے، کو قیمتی اسکن کیئر انگریڈیئنٹس میں بدلنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔

ان ’’اسکریپ‘‘ حصوں میں سولانیسول نامی کمپاؤنڈ پایا جاتا ہے، جو موجودہ بیوٹی پروڈکٹس میں استعمال ہونے والے Coenzyme Q10 اور Vitamin K2 جیسی اینٹی ایجنگ اور موئسچرائزنگ پروڈکٹس کی تیاری کا بنیادی جز ہے۔اب تک سولانیسول کا بڑا ذریعہ تمباکو تھا، مگر نئی تحقیق کے مطابق آلو اس کا محفوظ، سستا اور ماحول دوست متبادل بن سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں آلو کے بیجوں کی کاشت سالانہ 12,800 ہیکٹر سے زائد رقبے پر ہوتی ہے، اور اگر یہی فضلہ استعمال کیا جائے تو بیوٹی انڈسٹری کےلیے یہ ’’گیم چینجر‘‘ ثابت ہوسکتا ہے۔گریمپین گروورز کی پروجیکٹ لیڈ سوفیا الیکسیو نے اسے ’’آلو کی صنعت کےلیے اہم سنگ میل‘‘ قرار دیا، جبکہ یونیورسٹی کی پروفیسر ہیذر ولسن نے کہا کہ یہ ریسرچ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح ’’زرعی فضلہ سونے میں بدلا جاسکتا ہے‘‘ اور دیہی معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔