LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی سعودی درخواست مسترد کر دی: امریکی میڈیا ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 2500 سے زائد پوائنٹس کی کمی امریکہ: میڈیکیڈ میں 6 کروڑ 40 لاکھ ڈالر فراڈ پر ذکیہ خان کو 76 ماہ قید اور بھاری جرمانے کی سزا سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار کا سلامتی کونسل سے خطاب نیویارک میں نائن الیون کی 25ویں برسی: میئر زہران ممدانی کی شرکت پر تنازع اور شدید احتجاج ٹرمپ انتظامیہ پیر کو بڑے بینک کے خلاف پابندیاں عائد کرے گی، امریکی وزیر خزانہ واشنگٹن کے تمام اقدامات تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں ناکام رہے ہیں، باقر قالیباف

پھینکے ہوئے آلو اب بنیں گے بیوٹی کریم کا خزانہ، سائنسدانوں کی حیران کن تحقیق

Web Desk

3 December 2025

اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ابردین کے سائنسدانوں نے آلو کے اُن پتوں اور ٹہنیوں، جنہیں عام طور پر فصل کی کٹائی کے بعد پھینک دیا جاتا ہے، کو قیمتی اسکن کیئر انگریڈیئنٹس میں بدلنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔

ان ’’اسکریپ‘‘ حصوں میں سولانیسول نامی کمپاؤنڈ پایا جاتا ہے، جو موجودہ بیوٹی پروڈکٹس میں استعمال ہونے والے Coenzyme Q10 اور Vitamin K2 جیسی اینٹی ایجنگ اور موئسچرائزنگ پروڈکٹس کی تیاری کا بنیادی جز ہے۔اب تک سولانیسول کا بڑا ذریعہ تمباکو تھا، مگر نئی تحقیق کے مطابق آلو اس کا محفوظ، سستا اور ماحول دوست متبادل بن سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں آلو کے بیجوں کی کاشت سالانہ 12,800 ہیکٹر سے زائد رقبے پر ہوتی ہے، اور اگر یہی فضلہ استعمال کیا جائے تو بیوٹی انڈسٹری کےلیے یہ ’’گیم چینجر‘‘ ثابت ہوسکتا ہے۔گریمپین گروورز کی پروجیکٹ لیڈ سوفیا الیکسیو نے اسے ’’آلو کی صنعت کےلیے اہم سنگ میل‘‘ قرار دیا، جبکہ یونیورسٹی کی پروفیسر ہیذر ولسن نے کہا کہ یہ ریسرچ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح ’’زرعی فضلہ سونے میں بدلا جاسکتا ہے‘‘ اور دیہی معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔