LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بغیر چمچوں اور پروٹوکول کے باہر نکلیں تاکہ اندازہ ہو،خواجہ اظہار الحسن کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال پنجاب نے اپنے اخراجات کو بڑی حد تک محدود کیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا:مریم اورنگزیب سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل، پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ بلوچستان گرینڈ الائنس کا مطالبات کے حق میں اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کا مقام تبدیل

پھینکے ہوئے آلو اب بنیں گے بیوٹی کریم کا خزانہ، سائنسدانوں کی حیران کن تحقیق

Web Desk

3 December 2025

اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ابردین کے سائنسدانوں نے آلو کے اُن پتوں اور ٹہنیوں، جنہیں عام طور پر فصل کی کٹائی کے بعد پھینک دیا جاتا ہے، کو قیمتی اسکن کیئر انگریڈیئنٹس میں بدلنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔

ان ’’اسکریپ‘‘ حصوں میں سولانیسول نامی کمپاؤنڈ پایا جاتا ہے، جو موجودہ بیوٹی پروڈکٹس میں استعمال ہونے والے Coenzyme Q10 اور Vitamin K2 جیسی اینٹی ایجنگ اور موئسچرائزنگ پروڈکٹس کی تیاری کا بنیادی جز ہے۔اب تک سولانیسول کا بڑا ذریعہ تمباکو تھا، مگر نئی تحقیق کے مطابق آلو اس کا محفوظ، سستا اور ماحول دوست متبادل بن سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں آلو کے بیجوں کی کاشت سالانہ 12,800 ہیکٹر سے زائد رقبے پر ہوتی ہے، اور اگر یہی فضلہ استعمال کیا جائے تو بیوٹی انڈسٹری کےلیے یہ ’’گیم چینجر‘‘ ثابت ہوسکتا ہے۔گریمپین گروورز کی پروجیکٹ لیڈ سوفیا الیکسیو نے اسے ’’آلو کی صنعت کےلیے اہم سنگ میل‘‘ قرار دیا، جبکہ یونیورسٹی کی پروفیسر ہیذر ولسن نے کہا کہ یہ ریسرچ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح ’’زرعی فضلہ سونے میں بدلا جاسکتا ہے‘‘ اور دیہی معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔