LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ،تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق فیلڈ مارشل سے جمہوریہ کانگو کے دفاعی وفد کی ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت اپوزیشن کا 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں: سہیل آفریدی بلوچستان کے مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہئیں، وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے: وزیراعظم بلوچستان میں 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 37 دہشتگرد ہلاک اپوزیشن جماعتوں کے نئے الائنس کا معاملہ، اہم مشاورتی اجلاس آج ہوگا پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس، اپوزیشن کا احتجاج ملائیشین وزیر داخلہ کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ڈیجیٹل نظام کو سراہا امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سیاست کا معیار گٹر میں ڈال دیا گیا ہے، خواجہ آصف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دوبارہ نظرثانی درخواست دائر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا

پھینکے ہوئے آلو اب بنیں گے بیوٹی کریم کا خزانہ، سائنسدانوں کی حیران کن تحقیق

Web Desk

3 December 2025

اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ابردین کے سائنسدانوں نے آلو کے اُن پتوں اور ٹہنیوں، جنہیں عام طور پر فصل کی کٹائی کے بعد پھینک دیا جاتا ہے، کو قیمتی اسکن کیئر انگریڈیئنٹس میں بدلنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔

ان ’’اسکریپ‘‘ حصوں میں سولانیسول نامی کمپاؤنڈ پایا جاتا ہے، جو موجودہ بیوٹی پروڈکٹس میں استعمال ہونے والے Coenzyme Q10 اور Vitamin K2 جیسی اینٹی ایجنگ اور موئسچرائزنگ پروڈکٹس کی تیاری کا بنیادی جز ہے۔اب تک سولانیسول کا بڑا ذریعہ تمباکو تھا، مگر نئی تحقیق کے مطابق آلو اس کا محفوظ، سستا اور ماحول دوست متبادل بن سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں آلو کے بیجوں کی کاشت سالانہ 12,800 ہیکٹر سے زائد رقبے پر ہوتی ہے، اور اگر یہی فضلہ استعمال کیا جائے تو بیوٹی انڈسٹری کےلیے یہ ’’گیم چینجر‘‘ ثابت ہوسکتا ہے۔گریمپین گروورز کی پروجیکٹ لیڈ سوفیا الیکسیو نے اسے ’’آلو کی صنعت کےلیے اہم سنگ میل‘‘ قرار دیا، جبکہ یونیورسٹی کی پروفیسر ہیذر ولسن نے کہا کہ یہ ریسرچ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح ’’زرعی فضلہ سونے میں بدلا جاسکتا ہے‘‘ اور دیہی معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔