LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے ایران کو سفارتکاری کا موقع دینے کیلئے حملے روکے: مائیک والٹز اسحاق ڈار سے ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے کا ٹیلی فونک رابطہ، مختلف امور پر تبادلہ خیال حیدرآباد میں بی آئی ایس پی مستحقین سے غیر قانونی کٹوتیوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار یوکرین کو بحیرہ کیسپین میں جہاز پر حملے کا جواب دیا جائے گا: ایران کی دھمکی سویوز ایم ایس-28 خلائی جہاز آئی ایس ایس سے روانہ، تین خلا باز زمین واپسی کے سفر پر آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی: احسن اقبال الیکشن کیلئے 17 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات، انتخابی عمل کا آغاز آج سے ہوگا: چیف سیکرٹری آزاد کشمیر فیروزوالہ میں بند ٹوٹنے سے ایک ہی گھر کے تین بچے پانی میں ڈوب کر جاں بحق جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں، ثبوت سامنے آ گئے:عطا تارڑ کیف چند گھنٹوں میں جنگ ختم کر سکتا ، فیصلہ یوکرین کے ہاتھ میں ہے: کریملن ایران کے معاملے پر تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں: وائٹ ہاؤس امریکا اور ایران مذاکرات پر آمادہ، پاکستان اور قطر نے ثالثی کی کوششیں تیز کردیں آپریشن نصر دوم: ایران کا 11 امریکی طیارے تباہ اور 200 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ مجتبیٰ خامنہ ای کسی فرد یا ادارے سے رابطے میں نہیں، غلام علی حداد امریکی حملے جنگی جرائم، ذمہ داروں کا عالمی سطح پر احتساب ہونا چاہیے: ایرانی صدر

تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 27ویں آئینی ترمیم پرووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا اعلان

Web Desk

10 November 2025

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف اپنا سخت مؤقف جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اپوزیشن اس نام نہاد آئینی عمل میں کسی بھی قسم کی حصہ نہیں لے گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ ترمیم آئین کی بنیادی ساخت اور اس کی روح کے منافی ہے اور کسی رکن کو بھی رائے شماری یا کسی دیگر غیرآئینی عمل میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ غیرآئینی عمل میں شرکت آئین کی بالادستی کے اصولوں سے انحراف کے مترادف ہوگی۔ موجودہ آئینی ترمیم کے لیے آئینی طور پر کوئی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
اعلامیے کے مطابق، محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا جس میں علامہ ناصر عباس، حامد خان، نور الحق قادری اور ہمایوں مہمند نے شرکت کی۔ اجلاس میں سینیٹ میں 27ویں ترمیم کے حوالے سے حکمت عملی اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق تحریک تحفظ آئین کا یہ مؤقف واضح کرتا ہے کہ اپوزیشن آئینی بالادستی اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے کسی بھی غیر آئینی عمل میں شریک نہیں ہوگی۔