LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمنی فوج کے 780 فضائی اور فوجی حملے، 512 حوثی باغی ہلاک اور زخمی خوبصورت منظر کی تصویر لیتے امریکی خاتون گہری کھائی میں گر کر ہلاک امارات، قطر سمیت عرب ممالک اور مسلم ورلڈ لیگ کی سعودیہ پر حملوں کی شدید مذمت سعودی اور عراقی وزراء خارجہ کا رابطہ، سکیورٹی بارے تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال مصر کا یمن کے تنازع کے سفارتی حل کیلئے ہر ممکن کوشش کرنے پر زور روس کی کیف پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش، 630 ڈرون داغنے کا دعویٰ امریکی صدر کا ایلون مسک سے رابطہ، یوکرین کیلئے انٹرنیٹ سروس پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ چین کے علاقے تبت میں 7 شدت کا زلزلہ، زمین لرز اٹھی، لوگوں میں شدید خوف و ہراس یورپ میں مظاہروں میں شدت: فرانس میں مرکزی طلبہ یونین کی ہفتہ کو احتجاجی ریلیوں کی کال اس بار اسرائیل ٹرمپ سے پوچھے بغیر ایران پر حملہ کرے گا، نیتن یاہو امریکی صدر ٹرمپ کی معاشی کارکردگی کی منظوری کی شرح تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی پی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست میں گنڈا پور کی واپسی، مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہ ایران میں امریکی ڈالر کی خریداری کے لیے نئے ضوابط نافذ کردیے گئے امریکا خاموشی سے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں میں کمی کر رہا ہے، امریکی ٹی وی کا دعویٰ ایران اسرائیل پر حملےکیلئے ایٹم بم بنا رہا ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ

ایران کے معاملے پر تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں: وائٹ ہاؤس

Web Desk

26 July 2026

وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکہ کے پاس تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر مواصلات سٹیون چونگ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ایران نے آبنائے ہرمز یا امریکی اتحادیوں کے خلاف شدت پسندانہ کارروائیاں جاری رکھیں تو تمام ردِعمل کے آپشنز برقرار رہیں گے۔

سٹیون چونگ نے مزید کہا کہ سخت اقتصادی پابندیوں اور ایران کے فوجی اہداف پر 13 روز تک جاری رہنے والے مسلسل حملوں کے بعد اب عقلمندانہ راستہ یہی ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر آئے، ورنہ وہ نتائج سے اچھی طرح واقف ہے۔ یہ بیان ان امریکی میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پیٹریاٹ میزائلوں کی کمی اور خلیجی اتحادیوں کے تحفظات کے باعث فی الحال مزید فوجی حملے روک دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، کشیدگی میں عارضی کمی کے آثار بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ امریکی حملوں میں وقفے کے بعد ایرانی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اپنی جوابی کارروائیاں بند کر دی ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں صورتحال اب بھی حساس اور تذبذب کا شکار ہے۔