LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت جنوبی افریقہ میں فائرنگ، دو سگے بھائیوں سمیت چار پاکستانی جاں بحق یوکرین نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا: عباس عراقچی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں: یمنی وزیراعظم ٹرمپ نے ایران کو سفارتکاری کا موقع دینے کیلئے حملے روکے: مائیک والٹز اسحاق ڈار سے ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے کا ٹیلی فونک رابطہ، مختلف امور پر تبادلہ خیال حیدرآباد میں بی آئی ایس پی مستحقین سے غیر قانونی کٹوتیوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار یوکرین کو بحیرہ کیسپین میں جہاز پر حملے کا جواب دیا جائے گا: ایران کی دھمکی سویوز ایم ایس-28 خلائی جہاز آئی ایس ایس سے روانہ، تین خلا باز زمین واپسی کے سفر پر آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی: احسن اقبال الیکشن کیلئے 17 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات، انتخابی عمل کا آغاز آج سے ہوگا: چیف سیکرٹری آزاد کشمیر فیروزوالہ میں بند ٹوٹنے سے ایک ہی گھر کے تین بچے پانی میں ڈوب کر جاں بحق

یوکرین کو بحیرہ کیسپین میں جہاز پر حملے کا جواب دیا جائے گا: ایران کی دھمکی

Web Desk

26 July 2026

ایران نے بحیرۂ کیسپین میں اپنے جہاز کو نشانہ بنائے جانے پر یوکرین کو سخت ترین جوابی کارروائی کا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کو کسی صورت بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جائے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد نے کہا کہ یوکرین کے اس غیر ذمہ دارانہ اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی و سرحدی خودمختاری کے دفاع کا قانونی حق رکھتا ہے اور جس مقام سے بھی ایرانی مفادات پر حملہ کیا گیا، اسے جائز فوجی ہدف تصور کیا جائے گا۔

یہ شدید ردِعمل یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بحیرۂ کیسپین میں روسی جنگی جہاز کے ساتھ ایک ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، جس کی تصدیق بعد میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی کی۔ واقعے کے بعد تہران نے یوکرینی ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج درج کرایا اور اسے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کا مجرمانہ اقدام قرار دیا۔