LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا وزیراعظم کا گوگل ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ، اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کی ضمانت حکومت اپوزیشن ہاتھ ملائیں ایکدوسرے کے ساتھ ہاتھ نہ کریں: لیاقت بلوچ جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال سے واپس منتقل کرنا بدقسمتی ہے: چیئرمین پی ٹی آئی ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کیلئے سو مرتبہ جنگ کرنے کو تیار ہوں: ٹرمپ ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز عمران خان کا شفا ہسپتال میں تفصیلی معائنہ، صحت مند قرار، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا: عطا تارڑ بلوچستان میں دشمن عناصر ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں: فیلڈ مارشل پاکستان اور شام کا دفاعی شعبوں میں تعاون اور روابط بڑھانے پر اتفاق ایران کے خلاف امریکی پابندیاں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد خاتون رکن منتخب روس کے یوکرین میں مزید فضائی حملے، 17 افراد ہلاک، 40 زخمی دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران

سپریم کورٹ کا خواتین کے وراثتی حقوق پر اہم فیصلہ

Web Desk

7 July 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ کوئی بھی جرگہ یا قبائلی روایت، اسلامی شریعت اور ملکی قانون کے تحت کسی بھی وارث (خصوصاً خواتین) کو اس کے جائز حقِ وراثت سے محروم کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔

جسٹس عرفان سعادت خان کی جانب سے تحریر کردہ اس فیصلے میں مٹھی خان نامی شخص کی وراثتی زمین پر قبضے کے تنازع کا تصفیہ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے جعلی انتقالات کے ذریعے خواتین کی وراثتی زمین ہتھیانے کی کوشش کو یکسر مسترد کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں رولنگ دی۔ فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی جائیداد پر کوئی قانونی حق قائم نہیں ہو سکتا۔ اگر زمین کی منتقلی فراڈ کے تحت کی گئی ہو، تو اس پر کھڑی پوری قانونی عمارت خود بخود گر جاتی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے قبائلی معاشرے میں رائج بعض روایات پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ بیٹیوں اور خواتین کو وراثت سے محروم کرنا شریعتِ اسلامی اور پاکستان کے قانون دونوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ قانون اور اسلامی اصولوں سے بالاتر کوئی جرگہ یا رسم و رواج نہیں ہو سکتا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ریونیو حکام کے لیے بھی اہم ترین نکتہ واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ ریونیو ریکارڈ میں محض ‘انتقالِ ملکیت’ درج ہو جانا جائیداد کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا، اس لیے جعل سازی اور فراڈ سے کیے گئے ایسے انتقالات کی قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ ملک بھر میں وراثتی زمینوں کی تقسیم صرف اور صرف اسلامی قانونِ وراثت کے مطابق ہی کی جائے اور خواتین کے شرعی و قانونی حقوق پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔