LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لاہور کے نجی ہوٹل سے غیر ملکی شہری کی لاش برآمد ملک کے کئی شہروں میں شدید گرمی کا الرٹ، ہیٹ سٹروک کا خدشہ امریکی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کر دیا: ایرانی نائب وزیر خارجہ مشترکہ مفادات کونسل کے53ویں اجلاس کی تیاریوں کاتفصیلی جائزہ مری میں حکمران جماعت کی اہم بیٹھک، سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت نارووال کو علم کی بستی میں تبدیل کر دیا ہے:احسن اقبال مولانا کا بیان سمجھ سے بالاتر،فوج کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں: ملک احمد خان پاکستان کا بڑا اقدام؛ بھارتی رجسٹرڈ اور فوجی طیاروں پر فضائی حدود کی پابندی میں 24 اگست 2026 تک توسیع جیٹ فیول کی قیمت میں 40 روپے 35 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ؛ ہوائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان، فیفا کا ورلڈ کپ فاتح سکواڈ کو پہلی بار ٹرافی و میڈلز کیساتھ خصوصی چیمپئن رنگز دینے کا اعلان پاکستان میں دھکے کے بغیر کوئی چیز نہیں چلتی: خواجہ آصف سوات میں گلیشیئر پھٹ گیا، تین کوہ پیما زخمی، ایک لاپتا ٹرمپ کا ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن پر غور، درجنوں طیارے اسرائیل روانہ پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل پر لیوی برقرار، نوٹیفکیشن جاری ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فی صد اضافے کا اعلان

ایران پرحملہ، اسپین کا احتجاج،اسرائیل سے سفیر واپس بلا لیا

Web Desk

11 March 2026

 

اسپین کی حکومت نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا  ہے جس کی تصدیق سرکاری گزٹ میں کی گئی۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اسپین کی وزارت خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ  تل ابیب میں اسپین کا سفارت خانہ اب ناظم الامور کی سربراہی میں کام کرے گا۔

اسپین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات 1986 میں قائم کیے تھے تاہم  دونوں ممالک کے  تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی تھی، اسپین نے غزہ جنگ سمیت ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی بھی شدید مخالفت کی تھی۔

گزشتہ روز اسپین کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ  ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کی مخالفت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اسپین اور امریکا کے تعلقات معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔

اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز کی حکومت نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی تھی اور امریکی طیاروں کی جانب سےجنوبی اسپین میں واقع مشترکہ فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے  استعمال  سے بھی روک دیا تھا۔