LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

اے آئی سے ٹریفک اہلکار کے قتل کا طریقہ پوچھنا نوجوان کو مہنگا پڑ گیا

Web Desk

30 September 2026

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے اپنے والد کی مبینہ توہین کا بدلہ لینے کے لیے ٹریفک اہلکار کے قتل کا طریقہ کار آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سے پوچھنے والے ایک نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد تفتیش کر کے رہا کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی (FBI) نے نوجوان کی مشکوک آن لائن سرگرمیوں سے متعلق این سی سی آئی اے کراچی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا تھا، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایجنسی نے نوجوان کو کراچی کے پوش علاقے پی ای سی ایچ ایس (PECHS) سے اپنی تحویل میں لے لیا۔

حراست میں لینے کے بعد این سی سی آئی اے حکام نے نوجوان سے تفصیلی پوچھ گچھ کی۔ دورانِ تفتیش نوجوان نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئےکشادہ کیا کہ وہ کوئی حقیقی جرم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا، بلکہ وہ ایک فرضی کرائم اسٹوری کی اسکرپٹنگ اور کہانی نویسی کے لیے اے آئی سے مدد لے رہا تھا، اور اسی تخلیقی سلسلے میں اس نے ٹریفک اہلکار کے قتل کے مختلف طریقہ کار سے متعلق سوال کیا تھا۔

نوجوان نے انکشاف کیا کہ اس کے والد کی توہین کا حقیقت میں کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا تھا اور یہ تمام صورتحال صرف ایک فرضی کرائم کہانی کا حصہ تھی۔ ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے کی جانب سے معاملے کی گہرائی سے جانچ پڑتال اور تسلی بخش تفتیش کے بعد حراست میں لیے گئے نوجوان کو رہا کر دیا گیا ہے۔