LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ امریکی سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ اہم پیشرفت قرار ایران عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے، ٹرمپ امریکا سے آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے: کاظم غریب آبادی اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی

مقبرہ جہانگیر تا نور جہاں: شاہدرہ کمپلیکس کی بحالی کا تاریخی منصوبہ، عالمی ثقافتی ورثہ بننے کی راہ ہموار

Web Desk

16 December 2025

لاہور کے مضافات میں دریائے راوی کے کنارے واقع مغلیہ دور کا عظیم الشان شاہدرہ کمپلیکس ایک بار پھر قومی اور عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے اس تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے ایک جامع منصوبہ شروع کر دیا ہے، جسے ماہرین پاکستان کو عالمی ثقافتی نقشے پر نمایاں کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل، نجم الثاقب نے تصدیق کی ہے کہ طویل عرصے کی بے توجہی کے بعد حکومتِ پنجاب نے اس ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کے مطابق شاہدرہ کمپلیکس کئی برسوں تک اطراف میں تجاوزات اور ناقص رسائی کے باعث نظر انداز رہا، جس کی وجہ سے اس کی اصل تاریخی شناخت دھندلا گئی تھی۔

نجم الثاقب نے وضاحت کی کہ شاہدرہ کمپلیکس دراصل چار اہم یادگاروں کا ایک مربوط مجموعہ تھا، جس میں مقبرہ جہانگیر، اکبری سرائے، مقبرہ آصف خان اور مقبرہ نور جہاں شامل تھے۔ تاہم، ریلوے لائن بچھنے کے بعد مقبرہ نور جہاں دیگر حصوں سے الگ ہو گیا۔ ان کے مطابق، اکبری سرائے سب سے پہلے تعمیر ہوا تھا اور شاہراہِ ریشم سے آنے والے تاجروں کے لیے ایک اہم قیام گاہ اور تجارتی مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔

بحالی کے موجودہ مرحلے کے بارے میں ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ اکبری سرائے کے 180 کمروں کی مرمت، نیا لائٹنگ سسٹم اور ٹرانسفارمرز نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ سیاح رات کے اوقات میں بھی اس تاریخی مقام کا دورہ کر سکیں۔ مقبرہ آصف خان اور مقبرہ جہانگیر کے اطراف میں واک ویز، لانز اور پویلینز کی بحالی کا کام بھی جاری ہے۔ نجم الثاقب نے بتایا کہ مقبرہ جہانگیر کی چھت سے پانی ٹپکنے کا سنگین مسئلہ حل کر لیا گیا ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ مکمل منصوبہ اگلے ڈھائی سے تین برسوں میں مکمل ہو جائے گا۔

شاہدرہ کمپلیکس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ماہرِ آثارِ قدیمہ، نعیم اقبال، نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت چاروں یادگاروں پر بیک وقت کام جاری ہے۔ ابتدائی طور پر عمارتوں کی ساختی مضبوطی کو یقینی بنایا گیا، اور اب فریسکو پینٹنگز اور تزئین و آرائش کا حساس مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے 50 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

نعیم اقبال نے مقبرہ آصف خان کے گنبد کے حوالے سے تاریخی حقائق کا ذکر کیا کہ اگرچہ شواہد بتاتے ہیں کہ اس پر سفید سنگِ مرمر اور نیچے سرخ پتھر استعمال ہوا تھا، مگر مکمل ڈیزائن کی عدم دستیابی کی وجہ سے عالمی اصولوں کے تحت اصل شکل کی نقالی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق، بحالی صرف وہاں ہوگی جہاں تاریخی شواہد موجود ہوں گے، جبکہ دیگر جگہوں پر صرف حفاظتی مرمت کو ترجیح دی جائے گی۔

بحالی کا کام شروع ہونے اور کمپلیکس کے نقش و نگار کی خوبصورتی کے سامنے آنے کے بعد سیاحوں کی دلچسپی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کراچی سے آنے والی سیاح عائشہ نے جاری مرمت کو ایک مثبت قدم قرار دیا، جبکہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی تاریخ کی پروفیسر ڈاکٹر کوثر بٹ نے کہا کہ ایسے مقامات تعلیمی اعتبار سے بے حد اہم ہیں اور طلبہ کے لیے تاریخ کو ‘زندہ’ کر دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہدرہ کمپلیکس کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کرانے کی سب سے بڑی رکاوٹ اطراف میں موجود تجاوزات ہیں۔ تاہم، شہریوں کو امید ہے کہ جس طرح حکومتِ پنجاب نے اندرونِ لاہور میں تجاوزات کے خلاف کامیاب اقدامات کیے ہیں، اسی عزم کے ساتھ شاہدرہ کو بھی تجاوزات سے پاک کر کے اسے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرایا جائے گا۔