LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ امریکی سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ اہم پیشرفت قرار ایران عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے، ٹرمپ امریکا سے آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے: کاظم غریب آبادی اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی ایرانی صدر دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد وطن روانہ

امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ

Web Desk

24 June 2026

واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق امریکی سینیٹ کے ‘وار پاورز ایکٹ’ ووٹ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس پورے عمل کو مضحکہ خیز اور بالکل بے معنی قرار دے دیا ہے۔ اپنے ایک تند و تیز بیان میں امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران کو اس وقت سفارتی اور معاشی طور پر مکمل دباؤ میں لے رکھا ہے، جس کی وجہ سے وہ شکست کے دہانے پر کھڑا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت عملی طور پر ہمیں ہر وہ چیز دینے پر آمادہ ہے جو ہم چاہتے ہیں، اور کئی دہائیوں میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ ایران، امریکہ اور اس کے صدر کو بھرپور احترام دے رہا ہے۔

“امریکی سینیٹ نے ایک انتہائی بے وقت اور بے معنی وار پاورز ایکٹ ووٹ کرایا۔ اس ووٹنگ کے ذریعے سینیٹ نے ایران کو یہ غلط پیغام دیا ہے کہ امریکہ اپنے صدر کی کارروائیوں کو پسند نہیں کرتا۔ سینیٹ نے سٹریٹجک موڑ پر مجھے روک کر دراصل دشمن کی مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے۔”

صدر ٹرمپ نے اپنی ہی پارٹی کے ارکان کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ 4 ریپبلکن سینیٹرز اور ناکام سیاست دانوں نے اس معاملے پر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے ان سینیٹرز نے میرا کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔ تاہم انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنا کام ہر ممکن طریقے سے مکمل کر کے رہیں گے کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔