LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر زرداری سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی

نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار

Web Desk

24 June 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے دو شہریوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے سے متعلق ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی اپیل منظور کر لی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے نادرا کی اپیل پر 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ ماتحت عدالتیں شہریت سے متعلق مقدمات کو نمٹاتے ہوئے قومی سلامتی کے انتہائی حساس معاملات کو بھی لازمی مدِ نظر رکھیں۔ تفصیلی فیصلے میں شہریت کی تصدیق اور ثبوت کے حوالے سے درج ذیل اہم ترین قانونی نکات وضع کیے گئے ہیں شہریت ثابت کرنے کی قانونی ذمہ داری نادرا پر نہیں بلکہ دعویٰ کرنے والے شخص پر خود عائد ہوتی ہے۔ متعلقہ شخص کو اپنے والد اور دادا کی پاکستانی شہریت کے ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے۔ سنہ 1979ء سے پہلے کا سرکاری ریکارڈ شہریت کے تعین میں بنیادی اور کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ پیدائش کا سرٹیفکیٹ، پرانا شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈومیسائل اور تعلیمی اسناد کو بھی بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔

عدالتِ عالیہ نے نوٹ کیا کہ موجودہ کیس میں دعویدار خالد خان اور عطا اللہ 1979ء سے پہلے کا کوئی بھی قابلِ اعتماد سرکاری ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے۔ نادرا کی مشترکہ ویری فکیشن کمیٹی کی رپورٹس کو اہم قرار دیتے ہوئے فیصلے میں کہا گیا کہ ماتحت عدالتوں نے دستیاب شواہد اور قانونی تقاضوں کا درست جائزہ نہیں لیا تھا۔ اسپیشل برانچ، آئی ایس آئی (ISI) اور انٹیلیجنس بیورو (IB) کی رپورٹس میں بھی ان افراد کی پاکستانی شہریت ثابت نہیں ہو سکی تھی، جس کی بنیاد پر ان کے شناختی کارڈ مشکوک شہریت کے باعث بلاک کیے گئے تھے اور مشترکہ کمیٹی نے ان کے خاندان کو غیر ملکی قرار دیا تھا۔

عدالت نے مزید رولنگ دی کہ شہریت کے معاملات محض شناختی کارڈ کے اجراء کا نہیں بلکہ قانونی حیثیت کا سوال ہیں، اور یہ تنازعات ‘پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ’ اور ‘نادرا قوانین’ کے تحت ہی طے ہوں گے۔ ایسے معاملات میں براہِ راست سول دعویٰ یا رٹ پٹیشن قابلِ سماعت نہیں ہو سکتی جب نادرا ویری فکیشن بورڈ اور وفاقی حکومت کے متبادل قانونی فورمز پہلے سے موجود ہوں؛ چنانچہ پہلے نادرا کے قانونی فورمز سے رجوع کرنا لازم ہے۔ عدالت نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے یکسر کالعدم قرار دیتے ہوئے متاثرہ افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 روز کے اندر نادرا ویری فکیشن بورڈ سے رجوع کریں، جبکہ بورڈ قانون کے مطابق 60 روز کے اندر اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔