امریکی سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ اہم پیشرفت قرار
Web Desk
24 June 2026
واشنگٹن ڈی سی: امریکی سینیٹ کی جانب سے جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ کے عمل کو ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی سینیٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں نے 1973ء کے ‘وار پاورز ایکٹ’ کے تحت ایک ایسی مشترکہ قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی ہے، جس میں صدر کو واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ امریکی افواج کو کسی بھی ممکنہ دشمنی یا جنگی کارروائیوں سے فوری طور پر واپس بلائے۔ واشنگٹن ڈی سی میں قائم معتبر تنظیم ‘جسٹ فارن پالیسی’ نے ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے سے متعلق اس مشترکہ قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی اور سنگِ میل نما جنگ مخالف اقدام قرار دیا ہے۔
ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی میں ڈیموکریٹ رہنما گریگوری میکس نے اس پیشرفت پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قرارداد قانونی طور پر مکمل پابند ہے، اور اس پر عمل درآمد کرنا انتظامیہ کے لیے ہر حال میں ضروری ہوگا، چاہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اس بارے میں کوئی بھی موقف ہو۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید عزم ظاہر کیا کہ وہ اس بات کو سو فیصد یقینی بنانے کے لیے تمام آئینی اور قانونی راستے تلاش کریں گے کہ صدر اور ان کی انتظامیہ کانگریس کے اس تاریخی فیصلے پر من و عن عمل کرے۔
متعلقہ عنوانات
مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ، ایف پی آئی ایف
22 August 2026
ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان
22 August 2026
بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا
22 August 2026
پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے
22 August 2026
سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال
22 August 2026
وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی
22 August 2026
بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر
22 August 2026
محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق
22 August 2026