LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ، ایف پی آئی ایف ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی صدر زرداری سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر

امریکی سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ اہم پیشرفت قرار

Web Desk

24 June 2026

واشنگٹن ڈی سی: امریکی سینیٹ کی جانب سے جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ کے عمل کو ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی سینیٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں نے 1973ء کے ‘وار پاورز ایکٹ’ کے تحت ایک ایسی مشترکہ قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی ہے، جس میں صدر کو واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ امریکی افواج کو کسی بھی ممکنہ دشمنی یا جنگی کارروائیوں سے فوری طور پر واپس بلائے۔ واشنگٹن ڈی سی میں قائم معتبر تنظیم ‘جسٹ فارن پالیسی’ نے ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے سے متعلق اس مشترکہ قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی اور سنگِ میل نما جنگ مخالف اقدام قرار دیا ہے۔

ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی میں ڈیموکریٹ رہنما گریگوری میکس نے اس پیشرفت پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قرارداد قانونی طور پر مکمل پابند ہے، اور اس پر عمل درآمد کرنا انتظامیہ کے لیے ہر حال میں ضروری ہوگا، چاہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اس بارے میں کوئی بھی موقف ہو۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید عزم ظاہر کیا کہ وہ اس بات کو سو فیصد یقینی بنانے کے لیے تمام آئینی اور قانونی راستے تلاش کریں گے کہ صدر اور ان کی انتظامیہ کانگریس کے اس تاریخی فیصلے پر من و عن عمل کرے۔