LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ امریکی سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ اہم پیشرفت قرار ایران عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے، ٹرمپ امریکا سے آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے: کاظم غریب آبادی اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی ایرانی صدر دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد وطن روانہ

میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ

Web Desk

24 June 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے عائلی قوانین کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ایک ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون اپنے حق مہر کی مکمل حقدار ہے۔ عدالتِ عالیہ نے خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی سے متعلق پیدا ہونے والے ابہام کو دور کرتے ہوئے ایک بڑا قانونی نکتہ طے کر دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس مرزا وقاص رؤف نے سائلہ اذکا آفرین کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے مابین ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے مہر کا قانون اور اس کی اہمیت ختم نہیں ہوتی۔ اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا کوئی مخصوص وقت یا شرط درج نہ ہو، تو وہ پورا مہر فوری طور پر (عندالطلب) دینا ہوگا۔ مہر کی تفصیل واضح نہ ہونے پر قانون کے مطابق سارا مہر خاتون کی جانب سے جب بھی مانگا جائے، تب ہی واجب الادا مانا جائے گا۔ موجودہ کیس کے مطابق نکاح نامے میں لکھا گیا 10 تولہ سونا، ایک کنال زمین اور مکان فوری ادائیگی والا مہر (مہرِ معجل) ہے۔

عدالتِ عالیہ نے خلع کے ذریعے شادی ختم کرنے کی صورت میں مہر کی واپسی کا درج ذیل طریقہ کار واضح کیا ہے خلع (عورت کی طرف سے شادی ختم کرنے) کی صورت میں خاتون مہر کا صرف 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرنے کی پابند ہے۔خلع کی بنیاد پر شادی اس صورت میں فوری طور پر ختم تصور ہوگی بشرطیکہ خاتون مہر کا یہی 25 فیصد حصہ شوہر کو لوٹا دے۔

لاہور ہائیکورٹ نے اس اہم کیس میں ماتحت عدالتوں کی قانونی غلطی اور فیصلے کو دور کرتے ہوئے متاثرہ خاتون اذکا آفرین کی درخواست کو مکمل طور پر منظور کر لیا۔