LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلاول بھٹو کا جوائنٹ کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے جواب کا خیرمقدم امریکا کی مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کو انخلا کیلئے تیار رہنے کی ہدایت وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی و سیاسی صورتحال پر مشاورت بارشیں اور سیلابی صورتحال: وزارت ریلوے ہائی الرٹ، افسران کی چھٹیاں منسوخ دہشتگردی کی منصوبہ بندی میں ملوث کالعدم تنظیم کے تین ملزمان کو 7، 7 سال قید کی سزا آزاد کشمیر انتخابات: ملتان میں دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل، کانٹے دار مقابلے کا امکان شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 5 دہشت گرد ہلاک، میجر شہید ہر گھرغریب، معیشت بدترین بحران کا شکار ہے: شاہد خاقان عباسی حکومت پر برس پڑے عرفان صادق تارڑ پراسکیوٹر جنرل پنجاب تعینات افواجِ پاکستان اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی شراکت دار، امن و استحکام کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل امن منصوبے پر مثبت پیش رفت: 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے: دفتر خارجہ سندھ میں نئے صوبے کی ضرورت نہیں، یہ پنجاب کی عوام کا مطالبہ ہے، سعید غنی خطے کے ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں: ایرانی فوج پنجاب میں ماتحت عدلیہ کے ججز پر مونیٹائزیشن پالیسی نافذ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: 21 نشستوں پر پولنگ کل، 12 لاکھ سے زائد ووٹرز شامل

اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس 2026 حکومت نے واپس لے لیا

Web Desk

12 January 2026

حکومت نے اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس 2026 واپس لے لیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے آئین کے آرٹیکل 89(2) کے تحت آرڈیننس واپس لینے کی ایڈوائس دی۔

اس سے قبل وزیراعظم نے یہ آرڈیننس منظوری کے لیے صدرِ مملکت کو بھجوایا تھا، تاہم صدر نے 15 دن کے اندر اس پر دستخط نہیں کیے، جس کے بعد آئینی طریقہ کار کے تحت یہ خود بخود نافذ ہو گیا تھا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی نے صدر کی منظوری کے بغیر آرڈیننس نافذ ہونے پر شدید احتجاج کیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے ایسا آرڈیننس نافذ کیا جس پر صدر نے دستخط نہیں کیے، اس لیے اس قانون کی کوئی آئینی حیثیت نہیں بنتی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ہم اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے واضح کیا جاتا ہے کہ جب تک صدر توثیق نہ کریں، کسی بھی آرڈیننس کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی نہیں کیا جاتا۔