LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیرِ تعلیم پنجاب کا اسکولوں میں بچوں کو خود پڑھانے کا اعلان؟ کون سے مضامین پڑھائیں گے؟ مفت عمرہ کا جھانسہ دے کر آئس سعودی عرب اسمگل کرنے والا مرکزی اشتہاری گرفتار ازخود دوائیں مہنگی کرنے والی فارما کمپنیوں کے گرد گھیرا تنگ دیو ہیکل بحری جہاز “ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا لاہور: زہریلا کھانا کھانے سے 12 افراد کی حالت غیر، اسپتال منتقل مستونگ ہائی وے پر مسلح افراد کا حملہ، بلوچستان سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ گن مین سمیت شہید امریکی جارحیت بند ہونے تک خطے میں جوابی حملے جاری رہیں گے: ایرانی فوج عالمی اور مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی اسرائیلی آبادکاروں کا مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخلہ، فلسطینی حکام کا شدید احتجاج ایران معاہدہ کرنے کیلئے منتیں کر رہا ہے، قیمت چکانا پڑے گی: مارکو روبیو آسیان ریجنل فورم: پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کیلئے پُرعزم ہے، اسحاق ڈار انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد کا 230 سے زائد ضمانتوں میں توسیع کا حکم، 29 اکتوبر تک پولیس کو   پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری سے روک دیا جعلی شناختی دستاویزات کا اسکینڈل, نادرا اور پاسپورٹ افسران کے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات، 42 کیسز میں اہم انکشافات وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت بہبودِ آبادی پر اہم اجلاس، 2035 تک شرحِ نمو 1.25 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر خلع کے وقت نصف حق مہر کی واپسی کا معاملہ: سپریم کورٹ میں اہم قانونی و شرعی نقطے پر سماعت، ڈاکٹر بابر اعوان اور ڈاکٹر انعام اللہ عدالتی معاون مقرر

مستونگ ہائی وے پر مسلح افراد کا حملہ، بلوچستان سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ گن مین سمیت شہید

Web Desk

23 July 2026

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ولی خان بائی پاس کے قریب مسلح افراد نے ججوں کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین موقع پر ہی شہید ہو گئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہو گئے۔ ایس ایچ او تھانہ مستونگ کے مطابق دونوں جج صاحبان کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

حملے کے فوری بعد زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری کو طبی امداد کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔