LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایف بی آر میں 323 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف امریکا نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز لنکن اور بش ایران کے قریب تعینات کر دیئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ہفتہ وار رپورٹ؛ 100 انڈیکس میں 3130 پوائنٹس کی بڑی کمی، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے اسرائیل لبنان جنگ بندی پر عمل درآمد کیلئے امریکی فوجی وفد بیروت پہنچ گیا شپنگ، بندرگاہوں اور گوادر کی ترقی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان بھارت اور افغانستان کا ڈی این اے ایک ہے‘، نئی دہلی میں افغان وزیرِ زراعت عطاء اللہ عمری کا متنازع بیان ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کو ایران کے تمام علاقے مکمل تباہ کرنے کے احکامات دیے جا چکے: ٹرمپ امریکی محکمہ خارجہ کی افغان طالبان رجیم پر تنقید، یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ پاکستان نے ایل این جی کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا ایران نے جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی، امریکا خلاف ورزی کر رہا ہے: عراقچی پولیس نے طالبہ سے گن پوائنٹ پر زیادتی کرنے والے ملزم کے والد کو حراست میں لے لیا امریکی صدر ٹرمپ سینیٹ پر برہم، بل پر دستخط سے انکار کر دیا ایران نے اقوام متحدہ سے امریکا کے احتساب کا مطالبہ کر دیا امریکی صدر اور سعودی ولی عہد کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

پٹرولیم بحران؛ مشرقِ وسطیٰ جنگ سے خام تیل 11 دن،پیٹرول 27 دن،ایل پی جی 9 دن بعد ختم ہونے کا اعتراف

Web Desk

16 March 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پٹرولیم کے اجلاس میں ملک میں پیٹرولیم اور گیس کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر منظور احمد نے کی۔

بریفنگ کے مطابق قطر سے ملک کو گیس کی سپلائی مکمل معطل ہو چکی ہے، تاہم مقامی گیس کی پیداوار بڑھا دی گئی ہے اور موجودہ صورت حال میں گیس کی ڈیمانڈ بجلی سے زیادہ نہیں پہنچ سکی۔ مارچ میں آٹھ گیس کے کارگوز میں سے صرف دو پہنچ پائے جبکہ چھ مارچ کے کارگوز جنگ کے باعث نہیں آ سکے۔ اپریل کے چھ کارگوز میں سے بھی تین نہیں پہنچ سکیں گے اور 14 اپریل کے بعد گیس کی سپلائی ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

سسٹم گیس سپلائی 655 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ہو کر 642 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ آر ایل این جی سپلائی 28 سے بڑھا کر 30 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجموعی گیس سپلائی 683 سے کم ہو کر 672 ایم ایم سی ایف ڈی متوقع ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے گیس استعمال 399 سے بڑھا کر 420 ایم ایم سی ایف ڈی، کمرشل سیکٹر کے لیے 10 سے کم کر کے 8 ایم ایم سی ایف ڈی اور پراسیس انڈسٹری کے لیے 140 سے کم کر کے 120 ایم ایم سی ایف ڈی کرنے کا منصوبہ ہے۔

پاور سیکٹر کو گیس فراہمی 18 سے بڑھا کر 20 ایم ایم سی ایف ڈی، کھاد کے کارخانوں کے لیے 29 سے بڑھا کر 30 ایم ایم سی ایف ڈی، جبکہ کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے 82 سے کم کر کے 70 ایم ایم سی ایف ڈی تجویز کی گئی ہے۔ ایل این جی کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہونے کی صورت میں آذربائیجان کے ساتھ بھی معاہدہ کیا جا سکتا ہے، تاہم وہاں سے ایل این جی تین گنا مہنگی ملے گی۔

تیل کی سپلائی کے حوالے سے سیکریٹری پٹرولیم نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے چار دن میں جہاز پہنچتے تھے، اب ریڈ سی سے تیل منگوانے میں 12 دن لگ رہے ہیں۔ سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر حملے کی وجہ سے پیداوار بند ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

خام تیل کی قیمتیں جنگ کے بعد 72 ڈالر سے بڑھ کر 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں۔ ڈیزل اور پٹرول کے محدود ٹینکر آئے ہوئے ہیں، اور روس سے تیل کی خریداری کی کوششیں جاری ہیں۔ ایران سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے لیے بات چیت ہو رہی ہے، اور چار جہاز کھڑے ہیں تاکہ موجودہ ذخائر کو بڑھایا جا سکے۔

ملک میں ذخائر کی صورتحال کے مطابق:

خام تیل: 11 دن

ڈیزل: 21 دن

پیٹرول: 27 دن

ایل پی جی: 9 دن

جے پی ون: 14 دن

سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ ملک میں پیٹرول کی دستیابی برقرار ہے، تاہم قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ عرب ممالک سے تیل 4 سے 5 دنوں میں پہنچ جاتا ہے، اور یورو 5 معیار سے کم کوالٹی کے تیل کی درآمد کی اجازت بھی دی گئی ہے۔