LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی ملکی معاشی مسائل کا حل برآمدات بڑھانے میں ہے: محسن نقوی وزیراعظم کا صومالیہ میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کے لواحقین کیلیے امداد کا اعلان آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یورو زون میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں سڑک کنارے بم دھماکا، پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جاں بحق

بائنری اسٹار سسٹم سے متعلق ایک نادر دریافت

Web Desk

20 June 2026

واشنگٹن: ماہرینِ فلکیات نے خلا کی گہرائیوں میں ستاروں کے ملبے کی ایک ایسی نایاب موجودگی دریافت کی ہے، جو ممکنہ طور پر کبھی ایک ساتھ رہنے والے دو ستاروں کی مشترکہ باقیات ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے ناسا (NASA) کی ‘فیرمی گیما-رے اسپیس ٹیلی اسکوپ’ سے حاصل کردہ ڈیٹا اور مشاہدات کی مدد سے یہ حیرت انگیز نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سپرنووا (ستارے کے پھٹنے) کے ملبے کے یہ دو الگ الگ بادل دراصل کبھی ایک ہی ‘بائنری اسٹار سسٹم’ (دوہرا ستاروی نظام) کا حصہ تھے۔ واضح رہے کہ بائنری سسٹم میں دو ستارے مضبوط کششِ ثقل کی وجہ سے ایک دوسرے کے گرد گھومتے ہیں اور ان کا مرکزِ گردش مشترک ہوتا ہے۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ طبعیات سے وابستہ پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق مِلٹائڈس میکائلیڈِس نے اس بڑی فلکیاتی دریافت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان دونوں باقیات کے درمیان بے شمار حیرت انگیز اور غیر معمولی مماثلتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جس کی بنیاد پر اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان کا آپس میں گہرا اور قدیم تعلق ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سائنسی برادری میں یہ مفروضہ مکمل طور پر درست ثابت ہو گیا، تو یہ فلکیات کی تاریخ کی پہلی ایسی معلوم مثال ہوگی جس میں ایک ہی بائنری نظام کے اندر موجود دونوں ستاروں نے بیک وقت سپرنووا دھماکوں کا سامنا کیا ہو اور ان کی باقیات اب بھی ایک ساتھ موجود ہوں۔