LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت کی دستخطی تقریب، پاکستانی وفد سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا ایران معاہدہ جوہری ہتھیاروں کے خلاف مضبوط دیوار ثابت ہوگا: ٹرمپ امریکا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، ایک شخص ہلاک، 5 زخمی وائٹ ہاؤس میں یو ایف سی ایونٹ پر مبینہ حملے کی سازش ناکام، 5 مشتبہ افراد گرفتار امریکی محکمۂ جنگ نے انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام دوبارہ پیسیفک کمانڈ رکھ دیا یران سے مفاہمتی یادداشت حتمی نہیں، معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری ہوسکتی ہے: ٹرمپ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر جناب محمد نواز شریف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھارتی رجسٹرڈ طیاروں پر فضائی پابندی 24 جولائی کی صبح تک بڑھا دی۔ پی اے اے نوٹم بغیر چمچوں اور پروٹوکول کے باہر نکلیں تاکہ اندازہ ہو،خواجہ اظہار الحسن کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال پنجاب نے اپنے اخراجات کو بڑی حد تک محدود کیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا:مریم اورنگزیب سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل، پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق

راکٹ سے خارج ہونیوالے دھویں سے متعلق سائنس دانوں کا انتباہ

Web Desk

17 June 2026

برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن (UCL) کی قیادت میں ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ راکٹ لانچنگ کے دوران خارج ہونے والے بلیک کاربن (سیاہ کاربن) کے ذرات فضا کی بالائی تہوں میں، زمین پر پیدا ہونے والی عام سیاہ راکھ کے مقابلے میں، کہیں زیادہ طویل عرصے تک موجود رہتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق، سینکڑوں یا ہزاروں سیٹلائٹس پر مشتمل میگا کانسٹیلیشنز (جیسے سٹار لنک وغیرہ) کو خلا میں بھیجنے کے دوران پیدا ہونے والی یہ راکھ زمین کے مجموعی موسمیاتی نظام پر ایسے پیچیدہ اثرات ڈال سکتی ہے جنہیں ابھی پوری طرح سمجھا نہیں گیا، مگر یہ ممکنہ طور پر انتہائی سنگین اور تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرِ فضائی کیمیا (Atmospheric Chemist) کونر بارکر کے مطابق، راکٹ لانچنگ فضائی آلودگی کا ایک بالکل منفرد اور خطرناک ذریعہ ہے۔ یہ نقصان دہ کیمیائی مادّوں اور سیاہ راکھ کو کسی درمیانی واسطے کے بغیر، براہِ راست فضا کی بالائی تہوں میں پہنچاتے ہیں، جس کے نتیجے میں زمین کا وہ آخری حصہ جو اب تک نسبتاً صاف اور انسانی آلودگی سے محفوظ تھا، وہ بھی تیزی سے آلودہ ہو رہا ہے۔

سال 2019 کے بعد سے خلا میں بھیجے جانے والے راکٹوں کی تعداد میں حیران کن حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور فی الحال اس رفتار کے کم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ صورتحال یہ ہے کہ صرف رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں ہی اتنے راکٹ لانچ ہو چکے ہیں جتنے پورے سال 2020 میں لانچ ہوئے تھے۔

 خلائی صنعت کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ سال کے اختتام تک لانچز کی مجموعی تعداد، گزشتہ سال 2025 کے ریکارڈ 329 لانچز سے بھی آگے نکل کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر سکتی ہے۔ خلائی مہمات میں اس تیز رفتار اضافے کی سب سے بڑی وجہ امریکی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کے فیلکن 9 راکٹوں کی مسلسل پروازیں ہیں، جبکہ دوسری جانب چین نے بھی گزشتہ سال 2025 میں ریکارڈ 92 راکٹ لانچ کرنے کی کوششیں کر کے اس فضائی آلودگی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلا میں سیٹلائٹس بھیجنے کی یہی رفتار برقرار رہی تو فضا کی بالائی تہوں میں بلیک کاربن کی یہ مستقل تہہ زمین کے درجہ حرارت اور اوزون کی تہہ کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے