امارات میں 15 برس سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی
Web Desk
19 June 2026
نوجوان نسل کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات، سائبر کرائمز اور نفسیاتی الجھنوں سے بچانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے ایک بہت بڑی اور انقلابی جیو-ڈیجیٹل پیش رفت سامنے آئی ہے۔ متحدہ عرب امارات (UAE) نے ملک بھر میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر مکمل اور قانونی پابندی عائد کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔اس تزویراتی فیصلے کے ساتھ ہی یو اے ای دنیا کے ان چند گنے چنے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف سخت ترین قانونی ضوابط نافذ کیے ہیں۔ اماراتی حکومت کا یہ اقدام عرب دنیا (Arab World) میں اپنی نوعیت کا پہلا اور تاریخی قانون ہے۔متحدہ عرب امارات کی کابینہ کی جانب سے جاری کردہ اس نئی قرارداد کے بنیادی اور تزویراتی خدوخال درج ذیل ہیں:اماراتی کابینہ کی قرارداد اور ٹیک کمپنیوں کے لیے ڈیڈ لائنعمر کی کم سے کم حد (Age Limit): امارات کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘وام’ (WAM) کے مطابق، نئی قرارداد کے تحت متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم سے کم عمر 15 سال مقرر کر دی گئی ہے۔ 15 سال سے کم عمر کسی بھی بچے کو فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک یا دیگر پلیٹ فارمز پر ذاتی اکاؤنٹ بنانے، اسے چلانے یا استعمال کرنے کی قانونی طور پر بالکل اجازت نہیں ہوگی۔ٹیک کمپنیوں کی ذمہ داری: قرارداد میں فیس بک، ایکس (ٹویٹر)، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسی عالمی سوشل میڈیا کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے الگورتھم کے ذریعے 15 سال سے کم عمر بچوں کے بنائے گئے اکاؤنٹس کی سخت نگرانی کریں اور انہیں فوری طور پر بند کریں۔اکاؤنٹس بلاکنگ اور 12 ماہ کی مہلت: اگر کوئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم اس قانون پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہا، تو یو اے ای کی ڈیجیٹل اتھارٹی کی جانب سے ان کے اکاؤنٹس یا سروسز کو بلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے 12 ماہ (ایک سال) کی عبوری مہلت دی گئی ہے۔عالمی منظرنامہ: دنیا بھر میں بچوں پر سوشل میڈیا پابندیوں کا رجحانمتحدہ عرب امارات کا یہ تزویراتی فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں بچوں کے لیے انٹرنیٹ اور اسکرین ٹائم کو محدود کرنے کی عالمی لہر چل رہی ہے۔ درج ذیل جدول میں ان ممالک کا موازنہ پیش کیا گیا ہے جو اس نوعیت کے اقدامات اٹھا چکے ہیں:ملک یا خطہنافذ کردہ عمر کی حدپابندی کی نوعیت اور تزویراتی حیثیتآسٹریلیا (Australia)16 سال سے کم عمرگزشتہ برس دسمبر میں قانون پاس کیا، جو دنیا میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر عائد ہونے والی پہلی مایہ ناز عالمی پابندی تھی۔برطانیہ (UK)16 برس سے کم عمررواں ہفتے ہی برطانوی حکومت نے بھی بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا تزویراتی اعلان کیا ہے۔کینیڈا اور یورپسخت ڈیجیٹل ضوابطکینیڈا اور یورپی یونین کے کئی ممالک نوجوانوں کے سوشل میڈیا ہینڈلنگ پر سخت ترین قوانین لاگو کر چکے ہیں۔ملائیشیا، انڈونیشیا اور ترکیہمانیٹرنگ اور سخت قوانینمسلم اکثریتی ممالک میں نوجوان نسل کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے ضابطہ اخلاق سخت کیا جا چکا ہے۔متحدہ عرب امارات (UAE)15 سال سے کم عمرپوری عرب دنیا اور مڈل ایسٹ میں ایسا سخت قانون متعارف کرانے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
دبئی میں بلاک چین لائف 2026ء، کرپٹو اور اے آئی دنیا کا بڑا اجتماع
1 October 2026
سائنسدان 3 لاکھ 15 ہزار سال قدیم انسان کا ڈیجیٹل چہرہ تشکیل دینے میں کامیاب
1 October 2026
بچوں میں سوشل میڈیا کا استعمال روکنے اور عمر کی تصدیق کا اختیار نہیں: پی ٹی اے
1 October 2026
فولڈ ایبل آئی فون کی فروخت سے متعلق اہم انکشاف!
1 October 2026
پاکستان میں G5 کی اوسط ڈاؤن لوڈ سپیڈ 127.74 ایم بی پی ایس ریکارڈ
30 September 2026
اے آئی سے ٹریفک اہلکار کے قتل کا طریقہ پوچھنا نوجوان کو مہنگا پڑ گیا
30 September 2026
جدید اے آئی انسانیت کی بقا کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، انتھروپک کا انتباہ
30 September 2026
اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ نے پہلی بار زمین کے مدار میں پہنچنے کا اہم سنگِ میل عبور کر لیا
29 September 2026