LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ٹرمپ کیساتھ اچھے تعلقات، یوکرین تنازع حل کرنے کیلئے کوششوں پر شکرگزار ہیں: صدر پوتن کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز کی کارروائی، 60 لاکھ روپے کا سامان برآمد ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ستمبر میں مہنگائی 1.27 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 10.26 فیصد ریکارڈ فیول سبسڈی سکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید، وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کو سراہ لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ نابلس میں سیکڑوں اسرائیلی قبضہ گیروں کا حضرت یوسفؑ کے مزار پر حملہ ایپسٹین سے روابط ، ناروے کے وزیراعظم سمیت 11 وزراء پارلیمنٹ میں طلب برطانیہ کے عجائب گھروں میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ مفت حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز مصر: 1700 سال قدیم پراسرار مقبرہ دریافت حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ، ڈیزل سستا کر دیا

امارات میں 15 برس سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی

Web Desk

19 June 2026

نوجوان نسل کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات، سائبر کرائمز اور نفسیاتی الجھنوں سے بچانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے ایک بہت بڑی اور انقلابی جیو-ڈیجیٹل پیش رفت سامنے آئی ہے۔ متحدہ عرب امارات (UAE) نے ملک بھر میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر مکمل اور قانونی پابندی عائد کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔اس تزویراتی فیصلے کے ساتھ ہی یو اے ای دنیا کے ان چند گنے چنے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف سخت ترین قانونی ضوابط نافذ کیے ہیں۔ اماراتی حکومت کا یہ اقدام عرب دنیا (Arab World) میں اپنی نوعیت کا پہلا اور تاریخی قانون ہے۔متحدہ عرب امارات کی کابینہ کی جانب سے جاری کردہ اس نئی قرارداد کے بنیادی اور تزویراتی خدوخال درج ذیل ہیں:اماراتی کابینہ کی قرارداد اور ٹیک کمپنیوں کے لیے ڈیڈ لائنعمر کی کم سے کم حد (Age Limit): امارات کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘وام’ (WAM) کے مطابق، نئی قرارداد کے تحت متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم سے کم عمر 15 سال مقرر کر دی گئی ہے۔ 15 سال سے کم عمر کسی بھی بچے کو فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک یا دیگر پلیٹ فارمز پر ذاتی اکاؤنٹ بنانے، اسے چلانے یا استعمال کرنے کی قانونی طور پر بالکل اجازت نہیں ہوگی۔ٹیک کمپنیوں کی ذمہ داری: قرارداد میں فیس بک، ایکس (ٹویٹر)، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسی عالمی سوشل میڈیا کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے الگورتھم کے ذریعے 15 سال سے کم عمر بچوں کے بنائے گئے اکاؤنٹس کی سخت نگرانی کریں اور انہیں فوری طور پر بند کریں۔اکاؤنٹس بلاکنگ اور 12 ماہ کی مہلت: اگر کوئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم اس قانون پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہا، تو یو اے ای کی ڈیجیٹل اتھارٹی کی جانب سے ان کے اکاؤنٹس یا سروسز کو بلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے 12 ماہ (ایک سال) کی عبوری مہلت دی گئی ہے۔عالمی منظرنامہ: دنیا بھر میں بچوں پر سوشل میڈیا پابندیوں کا رجحانمتحدہ عرب امارات کا یہ تزویراتی فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں بچوں کے لیے انٹرنیٹ اور اسکرین ٹائم کو محدود کرنے کی عالمی لہر چل رہی ہے۔ درج ذیل جدول میں ان ممالک کا موازنہ پیش کیا گیا ہے جو اس نوعیت کے اقدامات اٹھا چکے ہیں:ملک یا خطہنافذ کردہ عمر کی حدپابندی کی نوعیت اور تزویراتی حیثیتآسٹریلیا (Australia)16 سال سے کم عمرگزشتہ برس دسمبر میں قانون پاس کیا، جو دنیا میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر عائد ہونے والی پہلی مایہ ناز عالمی پابندی تھی۔برطانیہ (UK)16 برس سے کم عمررواں ہفتے ہی برطانوی حکومت نے بھی بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا تزویراتی اعلان کیا ہے۔کینیڈا اور یورپسخت ڈیجیٹل ضوابطکینیڈا اور یورپی یونین کے کئی ممالک نوجوانوں کے سوشل میڈیا ہینڈلنگ پر سخت ترین قوانین لاگو کر چکے ہیں۔ملائیشیا، انڈونیشیا اور ترکیہمانیٹرنگ اور سخت قوانینمسلم اکثریتی ممالک میں نوجوان نسل کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے ضابطہ اخلاق سخت کیا جا چکا ہے۔متحدہ عرب امارات (UAE)15 سال سے کم عمرپوری عرب دنیا اور مڈل ایسٹ میں ایسا سخت قانون متعارف کرانے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔