LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے مطالبات رکھ دیئے ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج مدمقابل ہونگی دوبارہ فوجی ایکشن سے سفارتکاری کا وقت آگیا، دباؤ بڑھا کر امریکا رعایتیں حاصل نہیں کر سکتا: ایران ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اہم ترین محاذ بن گیا: میڈیا رپورٹ خلیج فارس میں امریکی تسلط کے بعد کا نظام ابھر رہا ہے، محسن رضائی پاکستان کا اہم فیصلہ: بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے لیے فضائی حدود کے استعمال پر پابندی میں 24 ستمبر 2026 تک توسیع روس کے یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں میزائل حملے، 10 افراد ہلاک، 18 زخمی امریکا کی عالمی فوجداری عدالت کی صدر اور سینئر پراسیکیوٹر پر پابندیاں عائد گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم پیشرفت ہے، شزا فاطمہ اسرائیلی جنگی طیاروں کا شام کے فضائی اڈے پر حملہ سعودی اور عراقی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال، تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال سعودی کابینہ کا کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے انسٹی ٹیوشنل، آپریشنل ہونے کا خیر مقدم

مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا تحریری حکم جاری کر دیا

Web Desk

15 July 2026

وفاقی آئینی عدالت (سپریم کورٹ) نے مارگلہ ہلز پر واقع مشہور مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے کا اپنا سابقہ فیصلہ واپس لیتے ہوئے 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے، جسے جسٹس حسن اظہر رضوی نے تحریر کیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مونال ریسٹورنٹ کی لیز اور زمین کی ملکیت کا اصل تنازع پہلے ہی سول عدالت میں زیرِ سماعت تھا، لیکن ہائیکورٹ نے اس کا فیصلہ آنے سے قبل ہی آئینی درخواست پر عجلت میں فیصلہ سنا دیا۔ تحریری حکم نامے میں سپریم کورٹ نے اعتراف کیا کہ عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز کر کے فریقین کا مؤقف سنے بغیر فیصلہ دیا گیا جس سے انصاف کا قتل ہوا، اور سپریم کورٹ نے بھی ماضی میں اس قانونی غلطی کو سدھارنے کے بجائے اس پر مہر ثبت کر دی تھی۔ عدالتِ عظمیٰ نے مارگلہ ہلز پر دی گئی تمام لیز منسوخ کرنے اور ریسٹورنٹ کے جمع شدہ کرائے وائلڈ لائف بورڈ کو دینے کے فیصلوں کو قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس علاقے پر دائرہ اختیار صرف کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کا ہے۔ عدالت نے سول اور ہائیکورٹ میں زیرِ التواء تمام متعلقہ کیسز کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ مونال کی لیز کی رقم اور زمین کی ملکیت کے تنازع پر سول کورٹ قانون کے مطابق خود فیصلہ کرے۔