LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
شام حوثیوں کیخلاف لڑنے کیلئے یمن میں اپنی فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، امریکی نیوز ویب سائٹ روس میں طاعون کے دوسرے مشتبہ کیس کی اطلاعات، عالمی برادری شدید تشویش میں مبتلا روسی صدر پیوٹن نے امریکا سے کشیدگی کم کرنے کیلئے ایران کو معاونت کی پیشکش کر دی افغانستان میں تبدیلی ناگزیر اور بہت قریب ہے،گلبدین حکمت یار کیمسٹری کا نوبیل انعام فرانس اور جاپان کے سائنسدانوں نے جیت لیا کے پی دہشتگردی کی لپیٹ میں، سہیل آفریدی کو بانی کا مقدمہ لڑنے کی فکر ہے: شرجیل میمن امریکی وزیر دفاع کا یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے کو خراج تحسین قطر کے قریب آئل ٹینکر پر متعدد پروجیکٹائلز سے حملہ، ہلاکتوں کا خدشہ چند ہفتوں کے دوران شام میں تیل کی پائپ لائن پر تیسرا حملہ، ملوث افراد گرفتار ایران مذاکرات کے ساتھ مزاحمت اور استقامت کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا، مسعود پزشکیان سعودی عرب کے 2 ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملے، 3 افراد جاں بحق، 36 زخمی ماسکو میں دوسرا عالمی ڈیجیٹل فورم آج شروع ہوگا، 120 ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے متعدد عالمی رہنماؤں کی روسی صدر کو سالگرہ پر مبارکباد، نیک خواہشات کا اظہار وزیراعلیٰ سندھ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کا سعودیہ سے متعلق بیان خوش آئند قرار دیدیا اسرائیل کو خانہ جنگی یا مکمل ریاستی خاتمے کا سامنا ہوسکتا ہے، سی آئی اے رپورٹ

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انسانی ہمدردی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

Web Desk

19 August 2026

زلزلہ ہو، سیلاب یا پھر جنگ، کسی بھی ناگہانی آفت اور بحران کی گھڑی میں سب سے پہلی اور سب سے بڑی ضرورت انسانیت کے مددگار ہاتھ کی ہوتی ہے۔ یہی ہاتھ ‘ہیومینیٹرین ورکرز’ (امدادی کارکن) کی صورت میں دنیا بھر میں آفت زدگان اور متاثرین تک پہنچتے ہیں۔ انسانی امداد کا بنیادی مقصد رنگ، نسل، مذہب یا کسی بھی تفریق کے بغیر ضرورت مند اور بے بس انسانوں تک بروقت مدد اور راحت پہنچانا ہے۔

19 اگست 2003ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر پر ایک ہولناک بم حملہ ہوا تھا جس میں 22 امدادی کارکن اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔ اس دردناک سانحے اور انسانیت کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی یاد میں ہر سال 19 اگست کو “عالمی ہیومینیٹرین ڈے” (World Humanitarian Day) منایا جاتا ہے۔

عصرِ حاضر کے چیلنجز اور امدادی کارکنوں کا کردار آج کی دنیا کو جنگوں، مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں، اجرت و بے گھر ہونے اور خوراک کے شدید بحران جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے خطرناک اور کٹھن حالات میں امدادی کارکن نہ صرف متاثرین تک خوراک، صاف پانی اور طبی سہولیات پہنچاتے ہیں، بلکہ ان کی ٹوٹتی ہوئی سانسوں کو امید اور زندگی کا احساس بھی دیتے ہیں۔

بحران خواہ کوئی بھی ہو، انسانی جان کا تحفظ اور اس کی مدد پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ جنگی اور متاثرہ علاقوں میں اپنی جانیں جوکھم میں ڈال کر کام کرنے والے ہیومینیٹرین ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر کے دور دراز اور آفت زدہ علاقوں میں بلا تفریق و بغیر کسی رکاوٹ کے امداد کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔

انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے والے یہ کارکن دنیا کے لیے امید اور ہمدردی کی علامت ہیں، اور موجودہ عالمی حالات میں ان کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور قابلِ قدر ہو چکا ہے۔