LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال سلامتی کونسل کی جانب سے سوات میں دہشت گرد حملے کی مذمت خون میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی دل کے شدید دورے کے خطرے سے منسلک، نئی تحقیق حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر حملہ، ایک پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی پاکستان، سعودیہ، ترکیہ کا سربراہی اجلاس آج، مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط متوقع وزیراعظم کی فیلڈ مارشل کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی، ملک کیلئے خصوصی دعائیں سعودیہ میں عراقی ملیشیا اور حوثیوں کے حملوں کا خدشہ، سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ صدر ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ میں شدید مشکلات سے دوچار: میڈیا رپورٹ ایران اور عمان میں آبنائے ہرمز معاہدے پر عملدرآمد انتہائی مشکل ہے: عالمی شپنگ انڈسٹریز انسانی حقوق تنظیموں نے جنوبی لبنان میں صحافیوں پر اسرائیلی حملے جنگی جرائم قرار دیدیئے صدر ٹرمپ کے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کیلئے 2 نئے احکامات پر دستخط امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے جلد خاتمے کیلئے پر امید ایرانی دفاعی ٹیکنالوجی سب سے بہترین، خطے کے ممالک کو جلد اندازہ ہوجائیگا: مجید ابن الرضا آزاد کشمیر میں بدترین دھاندلی زدہ الیکشن کرایا گیا: نیئر بخاری راجہ فاروق حیدر کا آزاد کشمیر الیکشن میں پیپلزپارٹی پر دھاندلی، انتظامی مشینری کے استعمال کا الزام

انسانی حقوق تنظیموں نے جنوبی لبنان میں صحافیوں پر اسرائیلی حملے جنگی جرائم قرار دیدیئے

Web Desk

7 August 2026

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ (Human Rights Watch) اور ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International) نے اپنی تازہ رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں صحافیوں پر کیا جانے والا اسرائیلی حملہ ایک واضح جنگی جرم تھا۔

رپورٹس کے مطابق 22 اپریل کو جنوبی لبنان کے قصبے ’الطیری‘ میں کوریج اور رپورٹنگ کے دوران صحافی امل خلیل اور ان کی ساتھی زینب فرج کو جان بوجھ کر اور براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ دونوں تنظیموں نے اس سنگین واقعے کی فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومتِ لبنان سے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے دائرۂ اختیار کو تسلیم کرے تاکہ ذمہ داران کا محاسبہ ممکن ہو سکے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے الطیری کے واقعے سے متعلق جائے وقوعہ کی تصویروں اور ویڈیوز، زخمی صحافی زینب فرج اور ریسکیو اہلکاروں کے بیانات، میڈیا رپورٹس اور لبنانی ریڈ کراس کی جانب سے اسرائیلی فوج کو بھیجے گئے پیغامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، پہلے اسرائیلی حملے کے بعد دونوں صحافیوں نے تحفظ کی خاطر قریب کی ایک عمارت میں پناہ لی اور مدد کے لیے لبنانی ریڈ کراس سے رابطہ کیا۔ تاہم جب امدادی کارروائی شروع کی گئی تو اسرائیلی فوج نے کواڈ کاپٹر ڈرون کے ذریعے ریسکیو ٹیموں پر دوبارہ حملہ کر دیا اور فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں امدادی اہلکار صحافی امل خلیل کو نکالے بغیر صرف زخمی زینب فرج کو لے کر واپس جانے پر مجبور ہو گئے۔ اس دوران اسرائیلی ڈرونز مسلسل امل خلیل اور ان کے ارد گرد کی نگرانی کرتے رہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے صحافیوں اور شہریوں کی مسلسل ہلاکتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ عالمی قوانین اور نتائج کی پروا کیے بغیر سنگین خلاف ورزیاں کرنے پر آمادہ ہیں۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کے مطابق رواں سال کے دوران اب تک 27 صحافی اور میڈیا کارکن اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جن میں سے 9 لبنان میں جبکہ 7 اسرائیل، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں جاں بحق ہوئے۔