LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا، حتمی فیصلے متوقع جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ پاکستان کا غزہ میں عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ اب تحمل کی پالیسی مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی، شہزادہ ترکی الفیصل اسلام آباد میں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سپیکر پنجاب اسمبلی سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے، چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی: محسن نقوی یورپی ممالک بھاری مقدار میں ڈیزل جاری کرنے پر تیار ہوگئے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ دوران پرواز کپتان پر حملہ کرنے والا شریک پائلٹ انتہا پسند تھا: امریکی اخبارکا دعویٰ محسن رضائی نے ٹرمپ کے ایران کیخلاف جنگ میں فتح کے دعوؤں کو مسترد کر دیا پاسداران انقلاب کا چابہار بندرگاہ کے قریب مبینہ دہشت گرد سیل تباہ کرنے کا دعویٰ حماس کی مالی معاونت کا الزام: امریکا نے 5 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں جی سیون ممالک نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیلئے اتفاق کر لیا: فرانسیسی صدر

روس کے فوجی سیٹلائٹس کی خلا میں پُراسرار حرکت امریکی خلائی کمپنی نے ریکارڈ کر لی

Web Desk

9 May 2026

روس کے دو فوجی سیٹلائٹس کی خلا میں پُراسرار حرکت ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں دونوں سیٹلائٹس مدار میں ایک دوسرے کے انتہائی قریب سے گزرے۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق کوس موس 2581 اور کوس موس 2583 نامی ان سیٹلائٹس کے درمیان فاصلہ سمٹ کر محض 3 میٹر رہ گیا، جس نے خلائی ماہرین کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔

ان سیٹلائٹس کو فروری 2025ء میں روسی خلائی ادارے ‘روس کوس موس’ نے خلا میں روانہ کیا تھا، جو گزشتہ ہفتے زمین سے تقریباً 585 کلومیٹر کی بلندی پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔ امریکی خلائی نگرانی کی کمپنی ‘کومسپوک’ (COMSPOC) نے اس واقعے پر گہری نظر رکھی اور اسے نہایت پیچیدہ اور غیر معمولی قرار دیا ہے۔

کومسپوک کے مطابق، یہ محض کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا بلکہ کوس موس 2583 نے کئی بار انتہائی باریک اور درست انداز میں اپنی پوزیشن تبدیل کی تاکہ وہ دوسرے سیٹلائٹ کے اس قدر قریب رہ سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ روس کی جانب سے کی جانے والی یہ مشقیں انتہائی جدید اور پیچیدہ خلائی ٹیکنالوجی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں، جس سے مستقبل میں خلائی جاسوسی اور مدار میں ممکنہ تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔