رنگین پلاسٹک کے باریک ذرات سے متعلق ہوشرُبا انکشاف!
Web Desk
26 May 2026
ماحولاتی آلودگی اور زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت (Global Warming) کے حوالے سے مئی 2026 میں ایک انتہائی تشویشناک اور ہولناک سائنسی انکشاف سامنے آیا ہے۔ نئی عالمی تحقیق کے مطابق، فضا میں تیرتے ہوئے رنگین پلاسٹک کے باریک ذرات (Microplastics) سورج کی روشنی اور تپش کو سائنس دانوں کے سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ جذب کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں انسانوں کی پیدا کردہ گلوبل وارمنگ کی شدت میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
معروف سائنسی جرنل ’نیچر کلائمیٹ چینج‘ (Nature Climate Change) میں شائع ہونے والی اس جدید تحقیق کے مطابق، ہوا میں معلق مائیکرو پلاسٹکس اور نینو پلاسٹکس—بالخصوص مختلف رنگوں کے حامل ذرات—زمین کے درجہ حرارت کو براہِ راست متاثر کرنے اور اسے بڑھانے کی واضح صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، محققین نے لیبارٹری اور فضائی تجزیوں کے بعد درج ذیل اہم حقائق دریافت کیے ہیں:
-
چھٹا بڑا خطرہ: فضا میں موجود پلاسٹک کے یہ باریک ترین ذرات ماحولیاتی آلودگی کے بدترین عنصر ’بلیک کاربن‘ (کاجل/سُوٹ) سے پیدا ہونے والی گرمی کے تقریباً چھٹے حصے ($1/6$) کے برابر اثر ڈال رہے ہیں۔
-
75 گنا زیادہ تپش: تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کا ‘رنگ’ گرمی جذب کرنے میں سب سے اہم عنصر ہے۔ جہاں سفید رنگ کے ذرات سورج کی روشنی کو واپس فضا میں بکھیر (Reflect) دیتے ہیں، وہاں گہرے رنگ کے پلاسٹک سورج کی شعاعوں کو اپنے اندر قید کر لیتے ہیں۔ یہ رنگین ذرات بے رنگ (Transparent) پلاسٹک کے مقابلے میں 75 گنا زیادہ حرارت جذب کرتے ہیں۔
مائیکرو پلاسٹکس اس سے قبل پینے کے صاف پانی، سمندری مخلوق، انسانی خون و اعضاء اور یہاں تک کہ دنیا کے سرد ترین خطے اینٹارکٹیکا کی برف میں بھی دریافت ہو چکے ہیں۔ تاہم، اس نئی تحقیق نے دنیا کو ایک نئے خطرے سے آگاہ کیا ہے کہ پلاسٹک اب صرف زمین اور پانی کو گندا نہیں کر رہا، بلکہ یہ کرہِ ارض کے حفاظتی فضائی غلاف کو ایک ‘تھرمل کمبل’ میں تبدیل کر رہا ہے۔
یہ دریافت پاکستان سمیت دنیا کے ان خطوں اور ممالک کے لیے ایک انتہائی ہولناک خبر ہے جو پہلے ہی شدید ترین ہیٹ ویوز (Heatwaves)، گلیشیئرز پگھلنے، اور موسمیاتی تباہ کاریوں کی زد میں ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ فضا میں پلاسٹک کی وجہ سے درجہ حرارت میں ہونے والا یہ معمولی سا اضافہ بھی انسانی صحت، زراعت، پانی کے گرتے ہوئے ذخائر اور رہائشی ماحول کو ناقابلِ برداشت بنا سکتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر پلاسٹک کی پیداوار اور فضائی آلودگی پر قابو پانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ننھا نیلا آکٹوپس سمندر کی گہرائیوں میں رہنے والی نئی نسل قرار
26 May 2026
خبردار! غیرقانونی سم اجراء کی روک تھام کیلئے نگرانی مزید سخت
25 May 2026
لیتھیم نکالنے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
25 May 2026
چین کا انسان کو چاند پر اتارنے کےلیے مشن کامیابی سے روانہ
25 May 2026
شکیرا کے فیفا ورلڈ کپ 2026 گانے کی ویڈیو جاری، میسی اور امباپے سمیت عالمی ستارے شامل
24 May 2026
واٹس ایپ میں نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاری، فون نمبر کے بغیر یوزر نیم سے چیٹ ممکن ہوگی
24 May 2026
2026 میں گوگل سرچ میں لکھے گئے غلط الفاظ کونسے ہیں؟
23 May 2026
علی بابا ڈاٹ کام کا پاکستانی برآمدکنندگان کیلئے اے آئی پر مبنی ایکو ورک متعارف
23 May 2026