LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ضمنی انتخاب: پنجاب کے دونوں حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کامیاب اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد

حمل کی مسلسل نگرانی کرنے والا الٹراساؤنڈ پیچ متعارف، جسے پہنا بھی جاسکتا ہے

Web Desk

30 May 2026

لندن: طبی سائنس کی دنیا میں حاملہ خواتین اور پیٹ میں پلنے والے بچے (جنین) کی حفاظت کے حوالے سے ایک انتہائی حیران کن اور انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک ایسا پہننے کے قابل (Wearable) الٹراساؤنڈ پیچ تیار کیا ہے، جو حمل کے دوران جنین کی پیچیدگیوں کی بروقت نشاندہی کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

معتبر سائنسی جریدے ’نیچر بائیوٹیکنالوجی‘ (Nature Biotechnology) میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق، اس نئی ٹیکنالوجی کو ’یو پیچ‘ (uPatch) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی نرم، لچکدار اور پہننے کے قابل الٹراساؤنڈ آلہ ہے، جسے حاملہ خاتون کے پیٹ پر لگا دیا جاتا ہے، جہاں سے یہ جنین کی اناٹومی (جسمانی ساخت) اور خون کے بہاؤ کی حقیقی وقت (Real-time) میں مسلسل نگرانی کرتا رہتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید آلہ خاص طور پر اُن خواتین کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہوگا جن کا حمل ‘ہائی رسک’ (زیادہ خطرے والا) ہوتا ہے۔ عام طور پر الٹراساؤنڈ کروانے کے لیے اسپتال جانا پڑتا ہے جہاں چند منٹوں کا معائنہ ہوتا ہے، لیکن یہ پیچ 24 گھنٹے مسلسل مانیٹرنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بچے کے دل کی دھڑکن میں اتار چڑھاؤ ہو یا خون کی سپلائی میں کوئی رکاوٹ، یہ آلہ فوری طور پر خطرے کا سگنل دے گا، جس سے ڈاکٹروں کو بروقت طبی مداخلت کرنے کا موقع مل سکے گا اور کئی معصوم جانیں بچائی جا سکیں گی۔

اس عالمی اہمیت کی حامل سائنسی تحقیق کو دنیا کے صفِ اول کے طبی ماہرین نے مل کر انجام دیا ہے۔

  • مرکزی قیادت: یہ تحقیق آکسفورڈ یونیورسٹی کے نفیلڈ ڈیپارٹمنٹ آف ویمنز اینڈ ری پروڈکٹیو ہیلتھ کی نامور محقق پروفیسر انتونیا جارجیوا کی زیرِ نگرانی مکمل کی گئی۔

  • معاونت: اس ایجاد میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے پروفیسر شینگ سو اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ممتاز سائنسدانوں نے تکنیکی و تحقیقی تعاون فراہم کیا۔

پروفیسر انتونیا جارجیوا اور ان کی ٹیم کا ماننا ہے کہ ‘یو پیچ’ کی شکل میں میڈیکل سائنس نے زچگی کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے، اور بہت جلد یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر کے اسپتالوں اور گھروں میں عام مریضوں کے استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔