LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

حمل کی مسلسل نگرانی کرنے والا الٹراساؤنڈ پیچ متعارف، جسے پہنا بھی جاسکتا ہے

Web Desk

30 May 2026

لندن: طبی سائنس کی دنیا میں حاملہ خواتین اور پیٹ میں پلنے والے بچے (جنین) کی حفاظت کے حوالے سے ایک انتہائی حیران کن اور انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک ایسا پہننے کے قابل (Wearable) الٹراساؤنڈ پیچ تیار کیا ہے، جو حمل کے دوران جنین کی پیچیدگیوں کی بروقت نشاندہی کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

معتبر سائنسی جریدے ’نیچر بائیوٹیکنالوجی‘ (Nature Biotechnology) میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق، اس نئی ٹیکنالوجی کو ’یو پیچ‘ (uPatch) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی نرم، لچکدار اور پہننے کے قابل الٹراساؤنڈ آلہ ہے، جسے حاملہ خاتون کے پیٹ پر لگا دیا جاتا ہے، جہاں سے یہ جنین کی اناٹومی (جسمانی ساخت) اور خون کے بہاؤ کی حقیقی وقت (Real-time) میں مسلسل نگرانی کرتا رہتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید آلہ خاص طور پر اُن خواتین کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہوگا جن کا حمل ‘ہائی رسک’ (زیادہ خطرے والا) ہوتا ہے۔ عام طور پر الٹراساؤنڈ کروانے کے لیے اسپتال جانا پڑتا ہے جہاں چند منٹوں کا معائنہ ہوتا ہے، لیکن یہ پیچ 24 گھنٹے مسلسل مانیٹرنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بچے کے دل کی دھڑکن میں اتار چڑھاؤ ہو یا خون کی سپلائی میں کوئی رکاوٹ، یہ آلہ فوری طور پر خطرے کا سگنل دے گا، جس سے ڈاکٹروں کو بروقت طبی مداخلت کرنے کا موقع مل سکے گا اور کئی معصوم جانیں بچائی جا سکیں گی۔

اس عالمی اہمیت کی حامل سائنسی تحقیق کو دنیا کے صفِ اول کے طبی ماہرین نے مل کر انجام دیا ہے۔

  • مرکزی قیادت: یہ تحقیق آکسفورڈ یونیورسٹی کے نفیلڈ ڈیپارٹمنٹ آف ویمنز اینڈ ری پروڈکٹیو ہیلتھ کی نامور محقق پروفیسر انتونیا جارجیوا کی زیرِ نگرانی مکمل کی گئی۔

  • معاونت: اس ایجاد میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے پروفیسر شینگ سو اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ممتاز سائنسدانوں نے تکنیکی و تحقیقی تعاون فراہم کیا۔

پروفیسر انتونیا جارجیوا اور ان کی ٹیم کا ماننا ہے کہ ‘یو پیچ’ کی شکل میں میڈیکل سائنس نے زچگی کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے، اور بہت جلد یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر کے اسپتالوں اور گھروں میں عام مریضوں کے استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔