LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں بے بنیاد، فلسطین پر مؤقف میں کوئی لچک نہیں: اسحاق ڈار راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا آج پہلے ون ڈے میں آمنے سامنے

حمل کی مسلسل نگرانی کرنے والا الٹراساؤنڈ پیچ متعارف، جسے پہنا بھی جاسکتا ہے

Web Desk

30 May 2026

لندن: طبی سائنس کی دنیا میں حاملہ خواتین اور پیٹ میں پلنے والے بچے (جنین) کی حفاظت کے حوالے سے ایک انتہائی حیران کن اور انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک ایسا پہننے کے قابل (Wearable) الٹراساؤنڈ پیچ تیار کیا ہے، جو حمل کے دوران جنین کی پیچیدگیوں کی بروقت نشاندہی کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

معتبر سائنسی جریدے ’نیچر بائیوٹیکنالوجی‘ (Nature Biotechnology) میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق، اس نئی ٹیکنالوجی کو ’یو پیچ‘ (uPatch) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی نرم، لچکدار اور پہننے کے قابل الٹراساؤنڈ آلہ ہے، جسے حاملہ خاتون کے پیٹ پر لگا دیا جاتا ہے، جہاں سے یہ جنین کی اناٹومی (جسمانی ساخت) اور خون کے بہاؤ کی حقیقی وقت (Real-time) میں مسلسل نگرانی کرتا رہتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید آلہ خاص طور پر اُن خواتین کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہوگا جن کا حمل ‘ہائی رسک’ (زیادہ خطرے والا) ہوتا ہے۔ عام طور پر الٹراساؤنڈ کروانے کے لیے اسپتال جانا پڑتا ہے جہاں چند منٹوں کا معائنہ ہوتا ہے، لیکن یہ پیچ 24 گھنٹے مسلسل مانیٹرنگ کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بچے کے دل کی دھڑکن میں اتار چڑھاؤ ہو یا خون کی سپلائی میں کوئی رکاوٹ، یہ آلہ فوری طور پر خطرے کا سگنل دے گا، جس سے ڈاکٹروں کو بروقت طبی مداخلت کرنے کا موقع مل سکے گا اور کئی معصوم جانیں بچائی جا سکیں گی۔

اس عالمی اہمیت کی حامل سائنسی تحقیق کو دنیا کے صفِ اول کے طبی ماہرین نے مل کر انجام دیا ہے۔

  • مرکزی قیادت: یہ تحقیق آکسفورڈ یونیورسٹی کے نفیلڈ ڈیپارٹمنٹ آف ویمنز اینڈ ری پروڈکٹیو ہیلتھ کی نامور محقق پروفیسر انتونیا جارجیوا کی زیرِ نگرانی مکمل کی گئی۔

  • معاونت: اس ایجاد میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے پروفیسر شینگ سو اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ممتاز سائنسدانوں نے تکنیکی و تحقیقی تعاون فراہم کیا۔

پروفیسر انتونیا جارجیوا اور ان کی ٹیم کا ماننا ہے کہ ‘یو پیچ’ کی شکل میں میڈیکل سائنس نے زچگی کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے، اور بہت جلد یہ ٹیکنالوجی دنیا بھر کے اسپتالوں اور گھروں میں عام مریضوں کے استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔