LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

ننھا نیلا آکٹوپس سمندر کی گہرائیوں میں رہنے والی نئی نسل قرار

Web Desk

26 May 2026

سمندری حیاتیات کی دنیا میں ایک طویل انتظار کے بعد ایک بڑی اور سائنسی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ سال 2015 میں پہلی بار گیلاپیگس جزائر کے قریب دیکھا جانے وال ایک ننھا اور انتہائی دلکش نیلا آکٹوپس اب باضابطہ طور پر سمندر کی پراسرار گہرائیوں میں رہنے والی ایک بالکل نئی اور منفرد نسل قرار دے دیا گیا ہے۔ سائنسی ماہرین نے اسے ‘مائیکرو ایلیڈون گیلاپیگنسِس’ (Microeledone galapagoensis) کا باقاعدہ نام دیا ہے۔

یہ حیران کن اور نایاب آکٹوپس بین الاقوامی سمندری تحقیقی جہاز ’ای وی نوٹِلس‘ (E.V. Nautilus) کے ایک مہماتی مشن کے دوران دریافت ہوا تھا۔ اس وقت جہاز پر موجود سائنسی عملے نے سمندر کی تاریک تہہ کو کھوجنے کے لیے ایک جدید ریموٹ کنٹرول روبوٹ (ROV) پانی میں روانہ کیا تھا، جو ڈارون جزیرے کے قریب زیرِ آب قدیم پہاڑی سلسلے کا تفصیلی جائزہ لے رہا تھا

اس ننھے جاندار کی دریافت کے مراحل اور اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • زیرِ آب پہاڑی کا سحر: روبوٹک کیمرہ جب سطحِ سمندر سے تقریباً 5,800 فٹ (قریب 1,767 میٹر) کی انتہائی گہرائی میں پہنچا، تو ایک اندھیرے زیرِ آب پہاڑ کی چٹان پر اس پراسرار نیلے آکٹوپس نے محققین کو دنگ کر دیا۔

  • سائنسی نمونہ: روبوٹک بازو کی مدد سے عملے نے سائنسی تحقیق کے لیے اس آکٹوپس کا ایک نمونہ کامیابی سے محفوظ کر لیا، جبکہ اسی مہم کے دوران بالکل اسی نسل کے مزید دو آکٹوپس کی اعلیٰ معیار کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کی گئیں۔

  • گالف بال جتنا سائز: اگرچہ اس تحقیقی مشن کے دوران سمندری تہہ سے کئی اقسام کے حیاتیاتی نمونے اکٹھے کیے گئے تھے، لیکن گالف بال (Golf Ball) کے سائز کے برابر چمکتا ہوا یہ نیلا آکٹوپس اپنی خوبصورتی اور انفرادیت کے باعث پوری دنیا کے سائنس دانوں کی توجہ کا خاص مرکز بن گیا۔

اتنی زیادہ گہرائی میں جہاں سورج کی روشنی بالکل نہیں پہنچتی، اس طرح کے چمکتے نیلے رنگ کے جاندار کا ملنا یہ ثابت کرتا ہے کہ سمندر کی اتھاہ گہرائیاں اب بھی ایسے ان گنت حیاتیاتی رازوں سے بھری پڑی ہیں جن تک انسان کی رسائی ہونا باقی ہے۔ اس آکٹوپس کی باقاعدہ درجہ بندی سے گہرے سمندر کے ماحولیاتی نظام کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی۔