LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ

ننھا نیلا آکٹوپس سمندر کی گہرائیوں میں رہنے والی نئی نسل قرار

Web Desk

26 May 2026

سمندری حیاتیات کی دنیا میں ایک طویل انتظار کے بعد ایک بڑی اور سائنسی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ سال 2015 میں پہلی بار گیلاپیگس جزائر کے قریب دیکھا جانے وال ایک ننھا اور انتہائی دلکش نیلا آکٹوپس اب باضابطہ طور پر سمندر کی پراسرار گہرائیوں میں رہنے والی ایک بالکل نئی اور منفرد نسل قرار دے دیا گیا ہے۔ سائنسی ماہرین نے اسے ‘مائیکرو ایلیڈون گیلاپیگنسِس’ (Microeledone galapagoensis) کا باقاعدہ نام دیا ہے۔

یہ حیران کن اور نایاب آکٹوپس بین الاقوامی سمندری تحقیقی جہاز ’ای وی نوٹِلس‘ (E.V. Nautilus) کے ایک مہماتی مشن کے دوران دریافت ہوا تھا۔ اس وقت جہاز پر موجود سائنسی عملے نے سمندر کی تاریک تہہ کو کھوجنے کے لیے ایک جدید ریموٹ کنٹرول روبوٹ (ROV) پانی میں روانہ کیا تھا، جو ڈارون جزیرے کے قریب زیرِ آب قدیم پہاڑی سلسلے کا تفصیلی جائزہ لے رہا تھا

اس ننھے جاندار کی دریافت کے مراحل اور اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • زیرِ آب پہاڑی کا سحر: روبوٹک کیمرہ جب سطحِ سمندر سے تقریباً 5,800 فٹ (قریب 1,767 میٹر) کی انتہائی گہرائی میں پہنچا، تو ایک اندھیرے زیرِ آب پہاڑ کی چٹان پر اس پراسرار نیلے آکٹوپس نے محققین کو دنگ کر دیا۔

  • سائنسی نمونہ: روبوٹک بازو کی مدد سے عملے نے سائنسی تحقیق کے لیے اس آکٹوپس کا ایک نمونہ کامیابی سے محفوظ کر لیا، جبکہ اسی مہم کے دوران بالکل اسی نسل کے مزید دو آکٹوپس کی اعلیٰ معیار کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کی گئیں۔

  • گالف بال جتنا سائز: اگرچہ اس تحقیقی مشن کے دوران سمندری تہہ سے کئی اقسام کے حیاتیاتی نمونے اکٹھے کیے گئے تھے، لیکن گالف بال (Golf Ball) کے سائز کے برابر چمکتا ہوا یہ نیلا آکٹوپس اپنی خوبصورتی اور انفرادیت کے باعث پوری دنیا کے سائنس دانوں کی توجہ کا خاص مرکز بن گیا۔

اتنی زیادہ گہرائی میں جہاں سورج کی روشنی بالکل نہیں پہنچتی، اس طرح کے چمکتے نیلے رنگ کے جاندار کا ملنا یہ ثابت کرتا ہے کہ سمندر کی اتھاہ گہرائیاں اب بھی ایسے ان گنت حیاتیاتی رازوں سے بھری پڑی ہیں جن تک انسان کی رسائی ہونا باقی ہے۔ اس آکٹوپس کی باقاعدہ درجہ بندی سے گہرے سمندر کے ماحولیاتی نظام کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی۔