LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

پنجاب: آئندہ مالی سال میں کاشتکاروں کو 20 ہزار گرین ٹریکٹر دینے کی ہدایت

Web Desk

4 June 2026

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زرعی شعبے میں کی جانے والی انقلابی اصلاحات اور کسان دوست پالیسیوں کے مثبت اور تعمیری نتائج سامنے آنے لگے ہیں، جس کے تحت صوبہ پنجاب جدید زرعی میکانائزیشن (Agricultural Mechanization) کے ایک بالکل نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔

صوبے بھر میں گرین ٹریکٹرز، ہائی ٹیک کمبائنڈ ہارویسٹرز اور سپر سیڈرز کی بڑے پیمانے پر فراہمی سے جدید کاشتکاری کو تیز رفتار فروغ مل رہا ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری تک آسان اور سستی رسائی فراہم کرنے کے لیے متعدد اہم منصوبوں پر کامیابی سے عملدرآمد جاری ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ‘گرین ٹریکٹر اسکیم’ کے تحت کسانوں کو ٹریکٹرز کی خریداری پر بھاری مالی ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے

اسکیم کے تحت 9,500 ہائی پاور ٹریکٹرز پر 10 لاکھ روپے فی ٹریکٹر جبکہ 50 سے 65 ہارس پاور کے 10 ہزار ٹریکٹرز پر 5 لاکھ روپے فی ٹریکٹر سبسڈی دی جا رہی ہے۔  وزیراعلیٰ نے اگلے مالی سال میں کاشتکاروں کو مزید 20 ہزار گرین ٹریکٹرز دینے کی خصوصی ہدایت جاری کر دی ہے۔

نئے مالی سال میں ہائی ہارس پاور ٹریکٹرز پر سبسڈی بڑھا کر 15 لاکھ روپے اور 50 سے 65 ہارس پاور کے ٹریکٹرز پر ساڑھے 7 لاکھ روپے کی جائے گی، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں کو نمایاں مالی سہولت حاصل ہوگی۔پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسانوں کی معاشی حالت سدھارنے کے لیے ایک منفرد اسکیم متعارف کرائی گئی ہے

صوبے میں پہلی بار 12 مختلف اقسام کی جدید زرعی مشینری کی خریداری کے لیے کاشتکاروں کو 3 کروڑ روپے تک کے بلاسود (Interest-Free) قرضے دیے جا رہے ہیں، تاکہ کسان آسان شرائط پر جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ زرعی آلات خرید سکیں۔

انہی حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اب تک کاشتکاروں کو بلاسود قرضوں کے ذریعے تقریباً 200 ہائی ٹیک کمبائنڈ ہارویسٹرز فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، گندم کی فصل کی کٹائی کے لیے بھی پہلی مرتبہ 50 جدید کمبائنڈ ہارویسٹرز استعمال کیے گئے، جس سے فصل کی بروقت اور مؤثر کٹائی ممکن ہوئی۔ماحولیاتی آلودگی (سموگ) کے خاتمے اور فصلوں کی باقیات (نارMultiplier) کو جلانے کے روایتی رجحان کو روکنے کے لیے پنجاب حکومت نے چاول کے کاشتکاروں میں 5 ہزار سپر سیڈرز تقسیم کیے۔ اس سپر سیڈر ٹیکنالوجی کے ذریعے پہلی مرتبہ صوبے کے 14 لاکھ ایکڑ رقبے پر چاول کی کامیاب کاشت مکمل کی گئی، جس کے بہترین زرعی اور ماحولیاتی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سپر سیڈر اسکیم کے دوسرے مرحلے کی باقاعدہ منظوری دیتے ہوئے مزید 5 ہزار سپر سیڈرز کسانوں کو فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور کسانوں کو جدت کی راہ پر گامزن کرنا ان کا پختہ عزم ہے۔ زرعی میکانائزیشن سے نہ صرف کسانوں کی پیداواری لاگت میں واضح کمی آئے گی بلکہ فی ایکڑ پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپر سیڈر کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے اور جدید ترین زرعی مشینری کا استعمال اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے محدود وسائل رکھنے والے چھوٹے کاشتکاروں کے لیے جدید زرعی مشینری کرائے (Rent) پر حاصل کرنے کی سہولت بھی متعارف کرائی ہے تاکہ مالی طور پر کمزور کسان بھی جدید زرعی ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔