LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت ایران کا متحدہ عرب امارات کا ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ غیر قانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار، 76 کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور، ملکی سیاست پر گفتگو عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی تشکیل دے دی گئی

Web Desk

13 July 2026

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک اعلیٰ سطح کی پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ تاریخی اقدام پنجاب اسمبلی پریولیجز ایکٹ 1972 کے سیکشن 11 سی کے تحت اسپیکر ملک محمد احمد خان کی ہدایت پر عمل میں لایا گیا ہے۔ رکنِ اسمبلی سردار محمد اویس دریشک کو اس نو تشکیل شدہ جوڈیشل کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں سید علی حیدر گیلانی (پارلیمانی لیڈر پیپلز پارٹی)، شوکت راجا، نورالامین وٹو، چوہدری افتخار حسین چھچھر، امجد علی جاوید، ذوالفقار علی شاہ، راحیلہ خادم حسین اور احمر رشید بھٹی شامل ہیں۔ اسپیکر کے مشیر اسامہ خاور گھمن کمیٹی کی قانونی کارروائی میں معاونت کریں گے۔ یہ کمیٹی اسمبلی کے استحقاق اور پارلیمانی نظم و ضبط سے متعلق اسپیکر کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنسز پر سماعت، تحقیقات اور کارروائی کرنے کی مجاز ہوگی۔ کمیٹی کو نوٹس جاری کرنے، شواہد و دستاویزات طلب کرنے اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا خصوصی قانونی اختیار حاصل ہوگا اور جرم ثابت ہونے پر یہ سزا یا جرمانہ بھی عائد کر سکے گی، تاہم فوجداری یا دیوانی مقدمات اس کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں ہوں گے۔ اس نئی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے پہلے سرکاری افسر ڈی پی او قصور ہوں گے جن کا معاملہ اس فورم پر زیرِ سماعت لایا جائے گا۔