کراچی: ایران امریکا مذاکرات میں غیر یقینی اور خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے خدشات
Web Desk
22 June 2026
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروباری ہفتے کا اختتام شدید مندی کے ساتھ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے حوالے سے مارکیٹ میں پائے جانے والے غیر یقینی حالات اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے خدشات بنے ہیں۔ ان ملکی و بین الاقوامی محرکات کے باعث انویسٹرز نے محتاط رویہ اپنایا، جس سے انڈیکس 180,000 کی نفسیاتی حد برقرار نہ رکھ سکا۔
انڈیکس کی صورتحال اور اتار چڑھاؤ مارکیٹ میں فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای (KSE) 100 انڈیکس 450 پوائنٹس کی نمایاں کمی کے ساتھ 178,471 کی سطح پر بند ہوا۔کاروبار کے دوران ایک موقع پر مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی اور انڈیکس 180,507 پوائنٹس کی یومیہ بلند ترین سطح کو چھو گیا تھا۔مندی کے غلبے کے دوران انڈیکس گر کر 178,337 پوائنٹس کی یومیہ کم ترین سطح تک بھی آگیا تھا۔ دن بھر مارکیٹ میں مجموعی طور پر 80 کروڑ 75 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، جو سرمایہ کاروں کی فعال شرکت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مارکیٹ میں ہونے والے ان سودوں کی کل مالیاتی مالیت 36 ارب 18 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ میں مجموعی طور پر 564 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن کا تناسب درج ذیل جدول سے واضح ہےجن کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی ہوئی 240
جن کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا 214
جن کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں 110
متعلقہ عنوانات
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز
24 August 2026
ایرانی کرنسی نئی امریکی پابندیوں کے باعث تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
24 August 2026
سونا مسلسل تیسرے روز بھی ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر: فی تولہ قیمت میں 5 ہزار 700 روپے کا اضافہ
22 August 2026
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوران منفی رجحان
22 August 2026
وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز مارجن میں اضافہ کر دیا
21 August 2026
عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ
21 August 2026
پاکستان میں پہلا ڈی پی آر پروگرام متعارف، جدید مالیاتی نظام کی جانب اہم پیش رفت
21 August 2026
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز
21 August 2026