ایران۔امریکا مفاہمت میں تاریخی کردار ادا کیا، تاہم مفاہمتی یادداشت دیرپا اور پائیدار معاہدے کی راہ ہموار کرے گی۔وزیراعظم شہباز شریف
Web Desk
23 June 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی (ایوانِ زیریں) کے اہم ترین سیشن میں ایک جامع اور تزویراتی خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ تاریخی مفاہمت اور جنگ بندی کو ممکن بنانے میں ایک کلیدی اور تاریخی ثالث (Mediator) کا کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اس اہم ترین امن عمل میں پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت دونوں ممالک کے درمیان طویل فاصلے کم ہوئے، جس کا اعتراف آج دنیا بھر کا عالمی میڈیا کر رہا ہے۔وزیراعظم نے ایوان کو بتایا کہ چند روز قبل امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر پاکستان نے بطور سرکاری ثالث اور ضامن دستخط کیے ہیں۔انہوں نے تصدیق کی کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے اور آئندہ 60 روز تک تکنیکی سطح پر قائم کردہ 4 ورکنگ گروپس کے مذاکرات جاری رہیں گے، جو مستقبل میں ایک دیرپا اور پائیدار مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کریں گے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج دنیا کے تمام بڑے اور معتبر عالمی جرائد و اخبارات کے فرنٹ پیجز پر پاکستان کی اس عظیم سفارتی کامیابی اور مثبت کردار کو نمایاں ترین انداز میں سراہا جا رہا ہے، جو ملکی خارجہ پالیسی کی ایک شاندار فتح ہے۔وزیراعظم نے ایوان کو مطلع کیا کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان کی خصوصی دعوت پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران دونوں برادر ممالک کے تعلقات میں غیر معمولی مضبوطی آئی ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت، معیشت، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کو وسعت دی جائے گی۔امریکہ ایران حالیہ معاہدے پر بین الاقوامی قوانین کے تحت عملدرآمد کے طریقہ کار اور علاقائی امن و استحکام پر تفصیلی مشاورت ہوگی۔ملکی سیاسی صورتحال اور اپوزیشن لیڈر کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے اپوزیشن بنچوں کو آڑے ہاتھوں لیا انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی تقریر کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (PTI) کو عام انتخابات کی تحقیقات کا اتنا ہی شوق ہے تو پھر شروعات 2018 کے الیکشن سے ہونی چاہیے، جہاں بدترین جادوگری کے ذریعے بکس بھرے گئے اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ وزیراعظم نے سخت لہجے میں متنبہ کیا کہ “اگر بات نکلی تو پھر بہت دور تک جائے گی”، اس لیے ایوان کے سامنے سچے حقائق کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔چاروں صوبوں کے درمیان باہمی یکجہتی اور متوازن معاشی ترقی پر زور دیتے ہوئے ایک اہم مالیاتی حقیقت شیئر کی قومی یکجہتی، ہم آہنگی اور چھوٹے صوبوں کو ترقی کی دوڑ میں برابر لانے کے لیے صوبہ پنجاب اپنے سالانہ مالیاتی حصے میں سے 11 ارب روپے دیگر صوبوں کو فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک سمیت اندرونی وفاقی اکائیوں کے ساتھ مضبوط، خوشحال اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔
متعلقہ عنوانات
بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا
22 August 2026
پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے
22 August 2026
سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال
22 August 2026
وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی
22 August 2026
بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر
22 August 2026
محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق
22 August 2026
طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی
22 August 2026
صدر زرداری سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
22 August 2026