LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت اور اپوزیشن میں معقول دوریاں ہونی چاہئیں، مخالفت برائے مخالفت نہیں: مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم وزیراعظم کی عازمینِ حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی، مؤثر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمر انٹرن شپ 2026 کے شرکا سے خصوصی نشست

وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال

Web Desk

23 July 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چین کی معروف زرعی اور فوڈ پروسیسنگ کمپنی ‘فیمسن’ کے سی ای او جیک چین کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں غذائی تحفظ، فوڈ اسٹوریج اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے فیمسن کی جانب سے ملک میں اجناس کو ذخیرہ کرنے کے روایتی مراکز کو جدید ‘اسٹیٹ آف دی آرٹ’ مراکز اور ‘گرین سائلوز’ میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مقامی افرادی قوت کی فنی تربیت پر زور دیا۔ جیک چین نے بتایا کہ یہ پیشرفت وزیراعظم کے حالیہ دورۂ چین کا تسلسل ہے جس کا مقصد غذائی تحفظ کے قابلِ عمل منصوبوں پر کام شروع کرنا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیمسن جدید گرین سائلوز کے لیے ایک ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی، جبکہ اس سلسلے میں کمپنی اور ‘گرین پاکستان انیشی ایٹو’ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں۔ اس اہم ملاقات میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے