LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے: انتونیو گوتریس ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا عراقی وزیراعظم علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی: نیتن یاہو عالمی منڈی میں برانٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے جہاں بھی موجود ہوں انہیں ختم کیا جائے گا: فیلڈ مارشل آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، وزیراعظم کی ٹیم کو شاباش سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان اجلاس کے بعد کرغزستان روانہ حوثیوں نے دوبارہ حملہ کیا تو ذمہ دار ایران ہوگا: ڈونلڈ ٹرمپ خیبرپختونخوا حکومت کی بلدیاتی قانون سے متعلق ترمیم مسترد قطر کی سعودی بحری جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان سیکرٹری جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی سعودیہ سے جوہری معاہدہ ابراہم اکارڈ میں شمولیت سے مشروط ہے: ٹرمپ

وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال

Web Desk

23 July 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چین کی معروف زرعی اور فوڈ پروسیسنگ کمپنی ‘فیمسن’ کے سی ای او جیک چین کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں غذائی تحفظ، فوڈ اسٹوریج اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے فیمسن کی جانب سے ملک میں اجناس کو ذخیرہ کرنے کے روایتی مراکز کو جدید ‘اسٹیٹ آف دی آرٹ’ مراکز اور ‘گرین سائلوز’ میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مقامی افرادی قوت کی فنی تربیت پر زور دیا۔ جیک چین نے بتایا کہ یہ پیشرفت وزیراعظم کے حالیہ دورۂ چین کا تسلسل ہے جس کا مقصد غذائی تحفظ کے قابلِ عمل منصوبوں پر کام شروع کرنا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیمسن جدید گرین سائلوز کے لیے ایک ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی، جبکہ اس سلسلے میں کمپنی اور ‘گرین پاکستان انیشی ایٹو’ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں۔ اس اہم ملاقات میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے