LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

پلاسٹک کی بوتل سے پانی پینے کے حیرت انگیز اور خطرناک نقصانات

Web Desk

20 January 2026

کونکورڈیا یونیورسٹی کی نئی تحقیق اور 140 سے زائد بین الاقوامی مطالعات کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک کی بوتلوں میں بند پانی انسانی صحت کیلئے ایک خاموش خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق بوتل بند پانی کے ہر لیٹر میں 2 سے 6,626 تک مائیکروپلاسٹک ذرات پائے جا سکتے ہیں، جبکہ نینو پلاسٹک کی مقدار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد روزانہ اپنی پانی کی ضرورت صرف سنگل یوز پلاسٹک بوتلوں سے پوری کرتے ہیں، وہ سالانہ تقریباً 90,000 اضافی مائیکروپلاسٹک ذرات جسم میں جذب کر لیتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں صرف نل کا پانی استعمال کرنے والے افراد سالانہ تقریباً 4,000 مائیکروپلاسٹک ذرات جذب کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بوتل کا ڈھکن اور گلا روشنی، حرارت اور بار بار کھلنے بند ہونے کے باعث مائیکروپلاسٹک خارج کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ذرات مدافعتی نظام، ہارمونز اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر کینسر سمیت دیگر سنگین بیماریوں سے جُڑے ہو سکتے ہیں۔