LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا: سپریم کورٹ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 2700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ سوات: کبل خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی، حملے کا مقدمہ درج ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کے پی پولیس میں انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ الگ کرنے کا فیصلہ امریکی ریاست آئیڈاہو میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کر لی شام اور اردن کا عراقی سرزمین سے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان ایران امریکا کشیدگی میں کمی کیساتھ ہی خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ چین کا صوبہ گانسو میں سیلاب سے تباہی کی ذمہ داری کے تعین کیلئے تحقیقات کا اعلان یوکرین کا روس میں ڈرون حملہ، 13 سالہ لڑکی ہلاک، 2 شدید زخمی چین کے سٹیل پلانٹ میں دھماکے کی تحقیقات مکمل، 62 افراد ذمہ دار قرار، 7 گرفتار آسٹریا میں جون کے دوران ہیٹ ویوز کے باعث 395 اموات ریکارڈ پیپر لیک اور امتحانات منسوخی: راہول گاندھی کا مودی سرکار سے معافی مانگنے کا مطالبہ دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں: حنیف عباسی کی سوات میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت

پلاسٹک کی بوتل سے پانی پینے کے حیرت انگیز اور خطرناک نقصانات

Web Desk

20 January 2026

کونکورڈیا یونیورسٹی کی نئی تحقیق اور 140 سے زائد بین الاقوامی مطالعات کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک کی بوتلوں میں بند پانی انسانی صحت کیلئے ایک خاموش خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق بوتل بند پانی کے ہر لیٹر میں 2 سے 6,626 تک مائیکروپلاسٹک ذرات پائے جا سکتے ہیں، جبکہ نینو پلاسٹک کی مقدار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد روزانہ اپنی پانی کی ضرورت صرف سنگل یوز پلاسٹک بوتلوں سے پوری کرتے ہیں، وہ سالانہ تقریباً 90,000 اضافی مائیکروپلاسٹک ذرات جسم میں جذب کر لیتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں صرف نل کا پانی استعمال کرنے والے افراد سالانہ تقریباً 4,000 مائیکروپلاسٹک ذرات جذب کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بوتل کا ڈھکن اور گلا روشنی، حرارت اور بار بار کھلنے بند ہونے کے باعث مائیکروپلاسٹک خارج کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ذرات مدافعتی نظام، ہارمونز اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر کینسر سمیت دیگر سنگین بیماریوں سے جُڑے ہو سکتے ہیں۔