LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمن نے صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ملک کے تمام ہوائی اڈے بند کردیئے ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان، کارگو پر 20 فیصد فیس کا دعویٰ ایران، امریکا کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ایران کا ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول سنبھالنے کے بیان پر ردعمل اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کی امیدوار کی ملاقات موسلادھار بارشوں کا خدشہ، بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری تربیلا ڈیم سے اضافی پانی چھوڑنے کا امکان، پی ڈی ایم اے کا الرٹ برطانیہ نےایرانی پاسداران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا امریکا جلد آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر دنیا سے معاوضہ وصول کریگا: ٹرمپ بحرین کا ایران پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام، متعدد میزائل اور ڈرون تباہ ووٹرز لسٹوں سے مسلمانوں کے نام حذف: یواین نمائندوں کی بھارتی حکومت سے وضاحت طلب یورپی ممالک کا روس پر سائبر حملوں کا الزام، نئی پابندیاں عائد کردیں خواتین ترقی کی شراکت دار نہیں قیادت کا کردار ادا کریں: مریم نواز ایران امریکا تنازع ختم کرنے کی صلاحیت صرف پاکستان کے پاس ہے: صدر آذربائیجان شہباز شریف اور نوازشریف کی امیر قطر سے ملاقات، سابق امیر قطر کے انتقال پر تعزیت

برطانیہ نےایرانی پاسداران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

Web Desk

13 July 2026

برطانوی حکومت نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے خلاف ایک بڑا اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے اسے باقاعدہ طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دینے اور اس سے وابستہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق، یہ اقدام غیر ملکی ریاستوں کی سرپرستی میں ہونے والی تخریب کار سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے متعارف کرائی جانے والی ہنگامی قانون سازی کے تحت کیا جا رہا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ساتھ ‘اسلامک موومنٹ آف کمپینینز آف دی رائٹ’ اور روس سے منسلک ‘جی آر یو والنٹیئر کور’ کو بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اگر برطانوی پارلیمنٹ نے رواں ہفتے کے اختتام تک اس فیصلے کی منظوری دے دی، تو ان تنظیموں کی جانب سے آتش زنی اور تخریب کاری میں ملوث افراد کو عمر قید تک کی سزا سنائی جا سکے گی۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس فیصلے پر سخت موقف اپنائے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کسی بھی ایسی غیر ملکی قوت کو برطانیہ میں سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گی جو ملک میں خوف، تشدد یا تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ اپنی سرزمین کو ایسی کارروائیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دے گا۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق، نئی قانون سازی سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اضافی اختیارات حاصل ہوں گے، اور ان تنظیموں کی کسی بھی قسم کی مالی یا اخلاقی حمایت و معاونت کو سنگین جرم تصور کیا جائے گا، جس پر 14 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔ برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود اور وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تنظیموں کے لیے کام کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ملکی سلامتی و شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ واضح رہے کہ برطانیہ اس سے قبل بھی ایران سے منسلک 550 سے زائد افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔