LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
شہباز شریف اور نوازشریف کی امیر قطر سے ملاقات، سابق امیر قطر کے انتقال پر تعزیت خواتین کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ میرا خواب ہے: مریم نواز آبنائے ہرمز کے قریب نئی کشیدگی، بندر عباس اور جزیرہ قشم کے قریب یکے بعد دیگرے دھماکے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے نئی گج ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے تک عدالتی مداخلت پر پابندی اسلام نے 14 صدیاں قبل خواتین کو مساوات اور معاشی حقوق دیے: یوسف رضا گیلانی ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 2 اہلکار شہید، متعدد زخمی او آئی سی کانفرنس، خواتین کی ترقی مسلم دنیا کی خوشحالی کی ضمانت ہے: اعظم نذیر وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے، نواز شریف بھی ہمراہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مشترکہ طریقہ کار میں امریکا رکاوٹ بن رہا ہے: اسماعیل بقائی ضلع دیامر میں سیلابی ریلوں سے تباہی، متعدد مکانات اور رابطہ پل بہہ گئے وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ؛ نئی گج ڈیم کیس میں ہائی کورٹ کا حکم کالعدم یوکرینی صدر نے وزیراعظم یولیا کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت مستعفی وفاق اپنے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے انہیں دور کرے، سہیل آفریدی بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، اموات کی تعداد 52 ہوگئی

ارکانِ پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 70 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز

Web Desk

2 June 2026

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ارکانِ پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں (SDGs پروگرام) کے لیے 70 ارب روپے سے زائد کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق، ارکانِ پارلیمنٹ کے فنڈز کے علاوہ کیبنٹ ڈویژن اور سٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 72 ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس بجٹ کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں کی استعداد کار میں اضافہ، ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینا، توانائی کی بچت اور خواتین کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

بجٹ تجاویز کے مطابق مختلف انتظامی محکموں اور قومی اثاثوں کی بحالی کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے:

  • کیبنٹ اور سٹیبلشمنٹ ڈویژن: پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے علاوہ کیبنٹ ڈویژن کے دیگر منصوبوں پر تقریباً 2 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، جبکہ سٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مختلف منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔

  • نیشنل آرکائیوز اور پارلیمنٹ لاجز: ‘نیشنل آرکائیوز پاکستان’ کے بحالی اور اپ گریڈیشن منصوبے پر ساڑھے 5 ارب روپے خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

سرکاری امتحانی نظام کو جدید بنانے اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اہم فنڈز تجویز کیے گئے ہیں:

  • ایف پی ایس سی امتحانی نظام: فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اسے مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے منصوبے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔

  • اسلام آباد ٹیکنوپولس: دارالحکومت میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ‘اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبہ’ کے لیے ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

  • توانائی کی بچت: توانائی کے شعبے میں شمسی توانائی نظام (سولر سسٹم) کی اپ گریڈیشن اور توانائی بچت کے منصوبوں کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے کے فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں ورکنگ ویمن اور خواتین افسران کو بااختیار بنانے اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے متعدد منصوبے شامل ہیں:

  • ورکنگ ویمن ہاسٹل: اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے نئے منصوبے کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

  • رہائشی سہولیات: سرکاری محکموں میں تعینات خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے