LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا کے حملوں کے باعث ریاض ایئرپورٹ کی 86 فیصد پروازیں منسوخ کے پی پولیس کو جدید ساز و سامان کی فراہمی، اے پی سیز، ایمبولینسز افسران کے حوالے ایرانی قوم بموں سے زیادہ طاقتور، دشمن اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا: ایرانی فوج اسرائیل کا انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کا ارادہ نہیں: وزیر دفاع گورنر خیبر پختونخوا کی پشاور ماسٹر پلان کے 180 روزہ اہداف پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت پاکستان اور امریکا کا توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ذوالفقار علی بھٹو کا بمبئی جائیدادوں پر 9 سالہ قانونی معرکہ ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، ساڑھے 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے شہباز شریف کی رانا مبشر اقبال کی رہائش گاہ آمد، خالہ زاد بھائی کے انتقال پر تعزیت لاہور ہائیکورٹ کا نیا ججز روسٹر جاری، 2 نومبر سے 24 دسمبر تک بنچز مقدمات سنیں گے سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کردیا، شرح 12 فیصد مقرر پاکستان اور ایتھوپیا کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ فیلڈ مارشل کی تجویز پر ایران چار ملکی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے: اسماعیل بقائی سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے

بچوں کے کینسر کی بروقت تشخیص اور علاج سے زیادہ تر کیسز مکمل طور پر قابل علاج قرار

Web Desk

16 February 2026

کراچی: ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 10 ہزار بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے، مگر بروقت تشخیص نہ ہونے، علاج کی محدود سہولتوں اور مالی مشکلات کی وجہ سے صرف 30 فیصد سے کم بچے زندہ رہ پاتے ہیں۔

انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے ‘ہیلتھ وائز’ سیشن میں بچوں کے کینسر کے بارے میں آگاہی دی گئی۔ ڈاکٹر نعیم جبار، پیڈیاٹرک ہیماٹولوجی آنکولوجی اسپیشلسٹ نے کہا کہ بچوں کے کینسر کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے زیادہ تر کیسز مکمل طور پر قابل علاج ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کم بچاؤ کی بڑی وجوہات علامات کی شناخت نہ ہونا، محدود ماہر مراکز، تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی کمی اور علاج چھوڑنے کی زیادہ شرح شامل ہیں۔سب سے عام اقسام میں لیوکییمیا، لیمفوما، دماغی اور ریڑھ کی ہڈی کے ٹیومرز، ہڈیوں اور نرم ٹشوز کے سارکومہ شامل ہیں۔ کیمو تھراپی، سرجری اور ریڈیوتھراپی بروقت شروع ہونے پر مؤثر ہیں۔انڈس ہسپتال میں ہر سال تقریباً 1000 نئے بچوں کے کینسر کیسز رجسٹر ہوتے ہیں اور 16 ہزار سے زائد بچوں کا اب تک علاج کیا جا چکا ہے۔ یہ تمام خدمات مالی حیثیت سے قطع نظر مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ماہرین نے والدین، اساتذہ، صحت فراہم کرنے والوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ آگاہی بڑھائیں تاکہ ہر بچے کو زندگی کا مساوی اور منصفانہ موقع مل سکے۔