LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا 4 فلسطین نواز کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ، تیونس میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

بچوں کے کینسر کی بروقت تشخیص اور علاج سے زیادہ تر کیسز مکمل طور پر قابل علاج قرار

Web Desk

16 February 2026

کراچی: ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 10 ہزار بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے، مگر بروقت تشخیص نہ ہونے، علاج کی محدود سہولتوں اور مالی مشکلات کی وجہ سے صرف 30 فیصد سے کم بچے زندہ رہ پاتے ہیں۔

انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے ‘ہیلتھ وائز’ سیشن میں بچوں کے کینسر کے بارے میں آگاہی دی گئی۔ ڈاکٹر نعیم جبار، پیڈیاٹرک ہیماٹولوجی آنکولوجی اسپیشلسٹ نے کہا کہ بچوں کے کینسر کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے زیادہ تر کیسز مکمل طور پر قابل علاج ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کم بچاؤ کی بڑی وجوہات علامات کی شناخت نہ ہونا، محدود ماہر مراکز، تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی کمی اور علاج چھوڑنے کی زیادہ شرح شامل ہیں۔سب سے عام اقسام میں لیوکییمیا، لیمفوما، دماغی اور ریڑھ کی ہڈی کے ٹیومرز، ہڈیوں اور نرم ٹشوز کے سارکومہ شامل ہیں۔ کیمو تھراپی، سرجری اور ریڈیوتھراپی بروقت شروع ہونے پر مؤثر ہیں۔انڈس ہسپتال میں ہر سال تقریباً 1000 نئے بچوں کے کینسر کیسز رجسٹر ہوتے ہیں اور 16 ہزار سے زائد بچوں کا اب تک علاج کیا جا چکا ہے۔ یہ تمام خدمات مالی حیثیت سے قطع نظر مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ماہرین نے والدین، اساتذہ، صحت فراہم کرنے والوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ آگاہی بڑھائیں تاکہ ہر بچے کو زندگی کا مساوی اور منصفانہ موقع مل سکے۔