بچوں کے کینسر کی بروقت تشخیص اور علاج سے زیادہ تر کیسز مکمل طور پر قابل علاج قرار
Web Desk
16 February 2026
کراچی: ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 10 ہزار بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے، مگر بروقت تشخیص نہ ہونے، علاج کی محدود سہولتوں اور مالی مشکلات کی وجہ سے صرف 30 فیصد سے کم بچے زندہ رہ پاتے ہیں۔
انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے ‘ہیلتھ وائز’ سیشن میں بچوں کے کینسر کے بارے میں آگاہی دی گئی۔ ڈاکٹر نعیم جبار، پیڈیاٹرک ہیماٹولوجی آنکولوجی اسپیشلسٹ نے کہا کہ بچوں کے کینسر کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے زیادہ تر کیسز مکمل طور پر قابل علاج ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کم بچاؤ کی بڑی وجوہات علامات کی شناخت نہ ہونا، محدود ماہر مراکز، تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی کمی اور علاج چھوڑنے کی زیادہ شرح شامل ہیں۔سب سے عام اقسام میں لیوکییمیا، لیمفوما، دماغی اور ریڑھ کی ہڈی کے ٹیومرز، ہڈیوں اور نرم ٹشوز کے سارکومہ شامل ہیں۔ کیمو تھراپی، سرجری اور ریڈیوتھراپی بروقت شروع ہونے پر مؤثر ہیں۔انڈس ہسپتال میں ہر سال تقریباً 1000 نئے بچوں کے کینسر کیسز رجسٹر ہوتے ہیں اور 16 ہزار سے زائد بچوں کا اب تک علاج کیا جا چکا ہے۔ یہ تمام خدمات مالی حیثیت سے قطع نظر مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ماہرین نے والدین، اساتذہ، صحت فراہم کرنے والوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ آگاہی بڑھائیں تاکہ ہر بچے کو زندگی کا مساوی اور منصفانہ موقع مل سکے۔
متعلقہ عنوانات
مصنوعی پلکیں بینائی کی دشمن
20 September 2026
جنرل ہسپتال سے جعلی ڈاکٹر گرفتار، مقدمہ درج کر لیا گیا
19 September 2026
پی ایم ڈی سی نے پانچ سالہ بی ڈی ایس پروگرام کا نفاذ موخر کردیا
19 September 2026
نئے انتظامی یونٹس بننے سے کوئی قتل و غارت نہیں ہوگی، مصطفیٰ کمال
19 September 2026
جنگلات کی آگ کا دھواں دیگر فضائی آلودگی سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے: تحقیق
19 September 2026
موسیقی ذہنی دباؤ سے بحالی میں مددگار قرار، تحقیق
18 September 2026
مصنوعی مٹھاس سے فالج کا خطرہ، نئی تحقیق میں دماغی خلیوں کے نقصان کا خدشہ
18 September 2026
پاکستان میں ہیگزویلنٹ ویکسین متعارف کروانے کی منظوری دے دی گئی
18 September 2026