LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
زمینی کارروائی کی تو ایران حملہ آوروں کا قبرستان بن جائے گا: پاسداران انقلاب ترکیہ نے ایران جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات ہی واحد حل قرار دیدیا جنوبی مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں فائرنگ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3زخمی ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے دوہرا معیار ختم کرنے کا مطالبہ مظاہرین اپنے مؤقف پر قائم رہیں، احتساب کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹیں: باقر قالیباف امریکی صدر کی ایران کیخلاف ایک اور بڑے آپریشن کی دھمکی آر فور ممالک کا اجلاس، سعودیہ کیساتھ اظہار یکجہتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ این سی سی آئی اے کے نوٹس پر جاوید ہاشمی کا ردعمل: اپنے لفظوں پر قائم ہوں، گرفتاری سے نہیں ڈرتا وزیراعلیٰ بلوچستان نے چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر قرار دیدیا ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید کا یونان کا سرکاری دورہ مکمل امارات میں پاکستانیوں کیلئے ای پاسپورٹ کا اجرا، کم از کم فیس 145 درہم مقرر اسحاق ڈار سمیت آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کی ترک صدر اردوان سے ملاقات روس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہ، 270 روسی فوجی ماسکو پہنچ گئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آئین اور قانون کے مطابق لگائی گئی: گورنر سندھ ماسکو میں ڈرون حملوں کا خطرہ، فضائی آپریشن کئی بار متاثر ہونے کے بعد دوبارہ بحال

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی

Web Desk

16 September 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی الشفا ہسپتال منتقلی سے متعلق کیس میں وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے مقدمات کا ریکارڈ طلب کیے جانے اور کیسز مقرر کرنے کے آرڈر پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سے آئینی معاونت طلب کر لی ہے۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل آگاہ کریں کہ وفاقی آئینی عدالت کس طریقہ کار کے تحت سپریم کورٹ سے کیسز کا ریکارڈ مانگ کر سماعت کے لیے مقرر کر سکتی ہے اور اس کے کیا نتائج ہوں گے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد اور بعد ازاں اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت میں پیش ہو کر آئینی عدالت کے گزشتہ روز کے حکم نامے سے آگاہ کیا۔ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم میں ‘کیسز سماعت کے لیے مقرر کرنے’ کے الفاظ تشویشناک ہیں اور بنیادی حقوق کے کیسز سننے کا دائرہ اختیار واضح ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئینی عدالت صرف آئین کی تشریح کر سکتی ہے جبکہ قرآن و سنت اور دیگر عمومی قانونی امور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ فاضل جج نے واضح کیا کہ ہم عدلیہ کے تمام اداروں کے باہمی احترام کے قائل ہیں لیکن آئین کی اصل منشا کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات پر عمل نہ ہونے اور اڈیالہ جیل انتظامیہ سمیت سرکاری افسران کے پیش نہ ہونے پر بھی عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور افسران کی عدم پیشی پر توہینِ عدالت کا نوٹس بھی لیا جا سکتا ہے۔ تاہم اٹارنی جنرل کی جانب سے ایک اور موقع دینے کی استدعا پر عدالت نے برہمی مؤخر کر دی۔ پی ٹی آئی کے وکلا سلمان اکرم راجہ اور عزیر بھنڈاری نے موقف اختیار کیا کہ ہسپتال منتقلی کے معاملے میں کسی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں بلکہ یہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کا معاملہ ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کی درخواستوں پر سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔