LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کی یوکرین کو تنازع کے حل کیلئے ٹھوس مذاکرات کی پیشکش جوابی کارروائی میں امریکی فوج کے ایم کیو نائن ڈرون کو نشانہ بنایا گیا: پاسداران انقلاب ایرانی پارلیمنٹ سپیکر کی شہریوں سے پٹرول کی کھپت کم کرنے کی اپیل بشارالاسد دور کے خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق اہم سوالات حل ہوگئے: آئی اے ای اے جرمنی کا لیپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے میں روس کے ملوث ہونے کا الزام روس کے یوکرین میں فضائی حملے، ایک بھارتی سمیت 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی ایران کے جوابی حملے، اردن میں امریکی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکا کا ایران پر پھر حملہ، شادی کی تقریب پر بمباری، 4 افراد شہید، 30 سے زائد زخمی محفوظ ڈیجیٹل ماحول ہر بچے کا بنیادی حق، مؤثر قانون سازی وقت کی ضرورت ہے: سارہ احمد ایران پر حملے اردن میں ہمارے فوجی اڈے پر حملوں کا جواب ہیں: صدر ٹرمپ قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں پاکستان ہاؤس لندن میں عشائیہ، محسن نقوی کی بھی شرکت خیبرپختونخوا کے وسائل پر صوبے کا حق، بقایاجات کیلئے عدالت جائینگے: سہیل آفریدی پٹرول ایک روپے 8 پیسے، ڈیزل 51 پیسے فی لٹر مہنگا بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات دی جا رہی ہیں: عقیل ملک امریکا کا ایران میں پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر حملہ، قشم اور آبنائے ہرمز میں دھماکے

نیٹ فلکس اور کپل شرما شو بڑے قانونی تنازع میں پھنس گئے

Web Desk

25 December 2025

معروف میوزک رائٹس ادارے فونوگرافک پرفارمنس لمیٹڈ (پی پی ایل) انڈیا نے بمبئی ہائی کورٹ میں نیٹ فلکس پر نشر ہونے والے شو کے خلاف کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

پی پی ایل کے مطابق شو کے تیسرے سیزن میں بالی ووڈ کے تین مشہور گانے بغیر اجازت استعمال کیے گئے ہیں: فلم منّا بھائی ایم بی بی ایس کا ’ایم بولے تو‘، فلم کانٹے کا ’راما رے‘ اور فلم دیسی بوائز کا ’صبح ہونے نہ دے‘۔ یہ اقساط جون سے ستمبر کے درمیان نشر ہوئیں۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ان گانوں کا استعمال بھارتی کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت ’عوامی پرفارمنس اور عوام تک ترسیل‘ کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ شو پہلے لائیو آڈیئنس کے سامنے ریکارڈ کیا جاتا ہے اور بعد میں آن لائن لاکھوں ناظرین تک پہنچتا ہے۔

پی پی ایل نے عدالت کو بتایا کہ نومبر کے آغاز میں شو کے پروڈیوسرز کو نوٹس بھیجا گیا تھا، مگر ان کا جواب غیر تسلی بخش تھا اور موسیقی کا استعمال جاری رہا۔

ادارہ عدالت سے درخواست کر رہا ہے کہ گانوں کے مزید استعمال کو روکا جائے، ممکنہ آمدن کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور خلاف ورزی سے متعلق مواد ضبط کیا جائے۔