LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لاہور میں بسنت 2027 کی تاریخیں تبدیل، نوٹیفکیشن جاری ملک بھر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹیلنٹ کو بلاامتیاز مواقع دیں گے: وزیراعظم او آئی سی اجلاس شروع، عراقی وزیراعظم کی ثالثی کیلئے پاکستان کی ستائش خطے میں کسی بھی محاذ پر لڑائی کا مطلب جنگ جاری رہنا ہے: ایران کے پی حکومت مولانا کے بغیر چلے گی اور ترقی بھی کرے گی: گورنر فیصل کنڈی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج بغداد میں ہوگا، اسحاق ڈار شرکت نہیں کریں گے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی ادوار میں زیادہ دیئے گئے: خواجہ آصف خلیج میں توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویش کا باعث ہیں: وزیر خزانہ خیبر پختونخوا میں ایکشن پلان تیار، 27 محکموں کیلئے بڑے اقدامات تجویز سرکاری عہدہ ملازمت نہیں، عوامی خدمت کا ذریعہ ہے: مریم نواز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری مشین ریڈایبل پاسپورٹ بند، اب صرف ای پاسپورٹ جاری ہوں گے سانحہ پشاور: سکول کی عمارت ناقص تعمیر کے باعث منہدم ہوئی، رپورٹ پولیس چیف کو ارسال پاکستان نے علاقائی استحکام کے فروغ کیلئے مؤثر کردار ادا کیا: رضوان سعید امریکی میڈیکیئر فنڈز میں 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے فراڈ میں مطلوب تین ملزمان کے پاکستان میں ہونے کا انکشاف

وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں امریکی کاروباری کونسلز کے وفود سے ملاقات

Web Desk

25 September 2026

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف سے امریکہ کی ‘بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈر اسٹینڈنگ’ (BCIU) اور ‘امریکہ پاکستان بزنس کونسل’ (USPBC) کے مشترکہ وفد نے ملاقات کی۔ اس اعلیٰ سطحی وفد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، فائنانس، مینوفیکچرنگ، ادویات اور آرگینک پروڈکٹس سمیت مختلف اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں کاروباری شخصیات شریک تھیں۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاونین خصوصی طارق فاطمی و بلال بن ثاقب، اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان احمد شیخ بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے وفود کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں، اور پاکستان کی معیشت اب مکمل استحکام کے بعد ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی آئی یو اور یو ایس پی بی سی اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خلیج کا بحران ایک مشکل مرحلے پر آیا تھا، تاہم پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں طویل مدتی امن کی توقع ہے، جو کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔

امریکہ سے آئے کاروباری رہنماؤں کو پاکستان کی کاروبار و سرمایہ کاری دوست پالیسیوں سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر ساختی اور پالیسی سطح کی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے، ٹیکنالوجی اور ای گورننس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کے زرعی شعبے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں جہاں مصنوعی ذہانت اور جدید مشینری کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی بے پناہ استعداد موجود ہے۔ اس کے علاوہ کان کنی، معدنیات، بندرگاہوں اور جہاز رانی کے شعبوں کو بھی سرمایہ کاری کے لیے انتہائی پُرکشش قرار دیا گیا۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت کا اصل کام نجی شعبے کے لیے کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں نجکاری کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے اور اب پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (Discos) کی نجکاری بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کر کے خودمختار بنایا جا رہا ہے۔ امریکی کاروباری شخصیات نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور حکومتی اقدامات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔