وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں امریکی کاروباری کونسلز کے وفود سے ملاقات
Web Desk
25 September 2026
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف سے امریکہ کی ‘بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈر اسٹینڈنگ’ (BCIU) اور ‘امریکہ پاکستان بزنس کونسل’ (USPBC) کے مشترکہ وفد نے ملاقات کی۔ اس اعلیٰ سطحی وفد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، فائنانس، مینوفیکچرنگ، ادویات اور آرگینک پروڈکٹس سمیت مختلف اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں کاروباری شخصیات شریک تھیں۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاونین خصوصی طارق فاطمی و بلال بن ثاقب، اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان احمد شیخ بھی موجود تھے۔
وزیراعظم نے وفود کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں، اور پاکستان کی معیشت اب مکمل استحکام کے بعد ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی آئی یو اور یو ایس پی بی سی اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خلیج کا بحران ایک مشکل مرحلے پر آیا تھا، تاہم پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں طویل مدتی امن کی توقع ہے، جو کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔
امریکہ سے آئے کاروباری رہنماؤں کو پاکستان کی کاروبار و سرمایہ کاری دوست پالیسیوں سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر ساختی اور پالیسی سطح کی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے، ٹیکنالوجی اور ای گورننس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کے زرعی شعبے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں جہاں مصنوعی ذہانت اور جدید مشینری کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی بے پناہ استعداد موجود ہے۔ اس کے علاوہ کان کنی، معدنیات، بندرگاہوں اور جہاز رانی کے شعبوں کو بھی سرمایہ کاری کے لیے انتہائی پُرکشش قرار دیا گیا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت کا اصل کام نجی شعبے کے لیے کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں نجکاری کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے اور اب پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (Discos) کی نجکاری بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کر کے خودمختار بنایا جا رہا ہے۔ امریکی کاروباری شخصیات نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور حکومتی اقدامات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
متعلقہ عنوانات
چمن سیکٹر پر افغان جارحیت اور دراندازی کی کوشش ناکام، متعدد طالبان ہلاک
25 September 2026
جنگ ختم کرنے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے، ایران لڑائی جاری نہیں رکھنا چاہتا: پزشکیان
25 September 2026
راولپنڈی: وکیل فیصل ملک کا علیمہ خانم کے مقدمے میں دفاع کا موقع نہ ملنے پر شدید اظہارِ تشویش
25 September 2026
امریکا نے شام کو 36 چوری شدہ نوادرات واپس کر دیے
25 September 2026
اقوام متحدہ کا عالمی امن کیلئے پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف
25 September 2026
یہ آخری کوشش ہوگی اور پی ٹی آئی پھر کبھی اسلام آباد کا رخ نہیں کرے گی: خواجہ آصف
25 September 2026
علیمہ خان کیخلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کا فیصلہ مؤخر
25 September 2026
امریکا بعض شرائط پوری کر دے تو آبنائے ہرمز 7 روز میں کھول دیں گے: عراقچی
25 September 2026