LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مولانا فضل الرحمٰن کی راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کمانڈر کویت نیول فورس کی نیول ہیڈکوارٹرز آمد، نیول چیف سے ملاقات 9 مئی کیس: سہیل آفریدی سمیت پانچ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ملک بھر میں اسکولز ہاکی لیگ شروع کرنےکا فیصلہ ایبٹ آباد پبلک سکول کے مسائل حل کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، گورنر فیصل کریم الیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم: انتخابی شیڈول مانگ لیا گیا ایران کا قطر سے ثالثی کے تقاضوں پر عمل اور محتاط بیانات کا مطالبہ گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، ملک کسی جرنیل کی جاگیر نہیں:مولانا فضل الرحمان جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا: حافظ نعیم اسرائیلی انتخابات کے بعد حکومت سازی کی دوڑ، نیتن یاہو اور اپوزیشن کے متضاد دعوے جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی: 26 ویں و 27 ویں آئینی ترامیم سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی، متن ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع کا حل صرف سفارت کاری ہے: چین نو ماہ میں 5,143 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 2,410 دہشت گرد ہلاک اور 3,518 گرفتار: محسن نقوی کی ایوان میں رپورٹ خیبرپختونخوا پولیس کا ڈرون اور اینٹی ڈرون نظام سیف سٹی سے منسلک امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران

اسٹیٹ بینک اور بینکنگ انڈسٹری کا اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ‘پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم’ کا اجراء

Web Desk

25 September 2026

کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (PBA) کے اشتراک سے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ‘پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم’ کی باقاعدہ افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ یہ نیا پروگرام بنیادی طور پر بینکنگ انڈسٹری کا ایک مثبت قدم ہے، جس کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر بھیجنے پر جدید مراعات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سابقہ ‘سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام’ کو یکم جولائی سے منسوخ کر دیا گیا تھا اور اب اس کے متبادل کے طور پر پاسبان اسکیم متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت کمرشل بینکوں کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کو سالانہ 16 ارب روپے (4 ارب روپے فی سہ ماہی) کے انعامات و مراعات دیے جائیں گے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے ملک کی حالیہ معاشی پیش رفت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2022 میں پاکستان کو 18 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور 38 فیصد کی تاریخی افراطِ زر کا سامنا تھا، لیکن سخت اقدامات اور اصلاحات کی بدولت ترسیلاتِ زر میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ترسیلاتِ زر مالی سال 2022 کے 31 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ رواں مالی سال میں اس کا حجم 44 ارب ڈالر تک جانے کا تخمینہ ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انرجی سیکٹر کے مسائل کی بنا پر گزشتہ چار سالوں میں برآمدات میں متوقع بہتری نہیں ہو سکی، تاہم انٹربینک سے پچھلے تین سالوں میں 30 ارب ڈالر کی خریداری کی بدولت اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر کی مستحکم سطح پر پہنچ چکے ہیں جو کہ تین ماہ کی درآمدات کے مساوی ہیں۔