LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس میں پانچ دھماکوں کی آوازیں، ایرانی سرکاری ٹی وی کیش لیس معیشت سے شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، وزیراعظم امریکا اور ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنائیں: چین مولانا نے پوری تاریخِ اسلام کے شہدا کی تضحیک کی: فیاض الحسن امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی وفد کی پیر پگارا سے اہم ملاقات، سیاسی صورتحال پر تفصیلی مشاورت

Web Desk

18 May 2026

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے وفد نے راجہ ہاؤس میں پیر پگارا سے اہم ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور اپوزیشن اتحاد سے متعلق تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں عمران اسماعیل، فواد چوہدری اور محمود مولوی شریک ہوئے۔ وفد نے اس موقع پر مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں دو سے تین سال کے لیے قومی حکومت کے قیام پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ موجودہ سیاسی و معاشی بحران سے نکلنے کا راستہ نکالا جا سکے۔

وفد نے کہا کہ تمام اہم ملکی مسائل کا حل علاقائی نمائندگی کو پس منظر میں رکھتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دینے میں ہے۔ اس کے ساتھ مضبوط اپوزیشن اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وفد نے پیر پگارا سے اپیل کی کہ وہ اس عمل میں اپنا کردار ادا کریں۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جلد مزید سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے جائیں گے۔

پیر پگارا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سمیت مختلف اپوزیشن جماعتیں مؤثر اتحاد کے قیام پر متفق ہیں، تاہم کوئی ایک یا دو جماعتیں اکیلے ملکی مسائل کا حل نہیں نکال سکتیں۔

ملاقات میں سندھ کی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی جبکہ گورننس، عوامی مسائل اور سیاسی استحکام پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

فریقین نے قومی ہم آہنگی اور اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ سندھ کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔

ملاقات میں بیرسٹر سیف، شہزاد وسیم، محمد علی درانی اور عباس جعفری بھی شریک تھے۔