LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی بنگلہ دیشی ہم منصب سے ملاقات، تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اظہار اطمینان نیتن یاہو کی تقریر، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے 77 ممالک کے وفود کا واک آؤٹ برطانیہ یوکرین تنازع کا باقاعدہ فریق بننے کے قریب پہنچ چکا ہے، روس صدر پوتن کو جی 20 اجلاس میں شرکت کی امریکی دعوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں: کریملن کارکن کے قتل پر پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکرٹری کا شدید اظہارِ مذمت پاکستان، امریکہ کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنیکی ضرورت ہے: گورنر سندھ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی اوگرا نے آر ایل این جی کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد کمی کردی فلسطینی صدر کا جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب، غزہ میں قتل عام روکنے کا مطالبہ یورپی پارلیمانی وفد کی اعظم نذیر تارڑ سے ملاقات، جی ایس پی پلس پر تبادلہ خیال اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز تعیناتی کی منظوری کے پی پولیس ایکٹ وفاقی قوانین سے متصادم ہے: بیرسٹر عقیل ملک مکہ، طائف اور تبوک میں خطرے کی وارننگ ختم، سعودی سول ڈیفنس کا اعلان حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی ٹرمپ اور شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات، اے آئی اور تجارت سمیت مختلف امور زیرِغور

امریکا اور ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنائیں: چین

Web Desk

14 July 2026

چین نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ فوجی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ جہاز رانی کو جلد از جلد بحال کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے کہا کہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تجارتی تحفظ کے لیے خطرہ ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریقین کو فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کو برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئی عسکری محاذ آرائی کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے ملحقہ ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس اہم گزرگاہ میں بحری آمدورفت کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ خواہش ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارتی تعاون کے ذریعے اس تنازع کا پرامن حل تلاش کریں۔