LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے مطالبات رکھ دیئے ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج مدمقابل ہونگی دوبارہ فوجی ایکشن سے سفارتکاری کا وقت آگیا، دباؤ بڑھا کر امریکا رعایتیں حاصل نہیں کر سکتا: ایران ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اہم ترین محاذ بن گیا: میڈیا رپورٹ خلیج فارس میں امریکی تسلط کے بعد کا نظام ابھر رہا ہے، محسن رضائی پاکستان کا اہم فیصلہ: بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے لیے فضائی حدود کے استعمال پر پابندی میں 24 ستمبر 2026 تک توسیع

ڈاکٹر آکاش کے قتل کا معاملہ؛ حیدرآباد پولیس نے اسلم بابا گروپ کے 2 مبینہ قاتل گرفتار

Web Desk

14 July 2026

کراچی کے علاقے کلفٹن تین تلوار پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں قتل ہونے والے ڈاکٹر آکاش (پرکاش) کے مقدمے میں پولیس کو بڑی کامیابی ملی ہے، جہاں حیدرآباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قتل میں ملوث دو سفاک قاتلوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، گرفتار ملزمان خطرناک “اسلم بابا گروپ” کے کارندے ہیں، جو ماضی میں بھی جرائم کی پاداش میں جیل کاٹ چکے ہیں؛ اس منظم جرائم پیشہ گروپ میں ایک لڑکی بھی سرگرم ہے۔ دوسری جانب، ڈاکٹر آکاش کی المناک موت پر پورے علاقے اور ہندو برادری میں شدید غم کی فضا برقرار ہے۔ آنجہانی ڈاکٹر کا جسدِ خاکی آخری رسومات کے لیے شمشان گھاٹ منتقل کیا گیا، جہاں ہندو برادری، عزیز و اقارب اور لواحقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر آکاش کو ان کی مذہبی روایات کے مطابق اشکبار آنکھوں کے ساتھ سپردِ آتش کر کے آخری الوداع کہہ دیا گیا، جبکہ مقتول کے لواحقین نے مجرموں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔