LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم ایران کی جانب سے خطرات، رکن ممالک کے دفاع کے لیے تیار ہیں: نیٹو

الیکشن کمیشن نے خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن مہم تیز کر دی

Web Desk

14 July 2026

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ملک بھر میں خواتین اور مرد ووٹرز کے مابین صنفی فرق کو کم کرنے کے لیے خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن مہم میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، موبائل رجسٹریشن وینز کے ذریعے دور دراز اور پسماندہ علاقوں سمیت ملک کے 62 اضلاع میں اس خصوصی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ اہل خواتین کو ووٹر فہرستوں کا حصہ بنانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مہم کے تحت تقریباً 18 لاکھ نئی خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ادارے کا ہدف ہر سال ووٹرز کے صنفی فرق میں ایک فیصد کمی لانا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2018 کے عام انتخابات کے بعد سے اب تک خواتین ووٹرز کا صنفی فرق بتدریج کم ہو کر 7.74 فیصد رہ گیا ہے، تاہم اس فرق کو مزید ختم کرنے کے لیے خواتین کو شناختی کارڈ اور ووٹر رجسٹریشن کی سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچائی جا رہی ہیں تاکہ وہ ملکی انتخابی عمل کا بھرپور حصہ بن سکیں۔