LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت ایران کا متحدہ عرب امارات کا ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ غیر قانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار، 76 کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور، ملکی سیاست پر گفتگو عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان

فیصل آباد جڑانوالہ روڈ پر فیکٹری کی چھت گرنے سے 18 سالہ مزدور جاں بحق

Web Desk

12 July 2026

پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد میں ایک فیکٹری کے کمرے کی چھت گرنے سے 18 سالہ نوجوان مزدور ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گیا ہے۔ یہ افسوسناک حادثہ فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ روڈ پر واقع ایک فیکٹری میں اس وقت پیش آیا جب وہاں موجود ایک کمرے کی چھت اچانک دھماکے سے نیچے آ گری۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق، چھت گرنے کے باعث کمرے میں موجود نوجوان ملبے تلے دب گیا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے ملبہ ہٹا کر نوجوان کی لاش کو باہر نکالا۔ ریسکیو حکام نے جاں بحق ہونے والے مزدور کی شناخت 18 سالہ ولید کے نام سے کی ہے۔

پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد نوجوان کی لاش کو تدفین کے لیے ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، فیکٹری میں چھت گرنے کے اس حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ حکام کی طرف سے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے