LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں لڑائی، 24 گھنٹوں میں 68 ہلاکتیں اسحاق ڈار سے ترک سفیر، برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقاتیں، علاقائی صورتحال پر مشاورت پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان کا سلسلہ برقرار وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ

محمد رضوان کی آئی سی سی سے اینٹی کرپشن کارروائی سے متعلق رہنمائی کی درخواست

Web Desk

18 September 2026

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سینئر وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اینٹی کرپشن یونٹ سے باضابطہ رابطہ قائم کرتے ہوئے ڈریسنگ روم سے موبائل فون قبضے میں لیے جانے اور اینٹی کرپشن کارروائی سے متعلق جامع قانونی و آئینی رہنمائی کی درخواست کر دی ہے۔ محمد رضوان نے آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے آفیشل پورٹل پر جا کر آن لائن درخواست جمع کرائی، جس میں انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے اینٹی کرپشن یونٹ کی اس تمام کارروائی سے آئی سی سی مکمل طور پر آگاہ یا اس میں براہِ راست شامل تھی؟

محمد رضوان نے اپنی درخواست میں آئی سی سی سے اہم سوالات کے جوابات مانگتے ہوئے دریافت کیا کہ کھلاڑی سے فون طلب کرنا اور پھر اس ڈیوائس کو برطانیہ سے پاکستان منتقل کرنا آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کے طے شدہ ضوابط کے مطابق تھا یا نہیں؟ انہوں نے فون کے فرانزک معائنے کے اختیار کیے گئے طریقہ کار پر بھی شفافیت کی وضاحت طلب کی ہے۔ وکٹ کیپر بیٹر نے واضح کیا کہ وہ کسی ادارے یا فرد کے خلاف کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کرا رہے بلکہ مستقبل کے لیے اپنی قانونی ذمہ داریوں، باہمی تعاون کے طریقہ کار اور اپنے بنیادی حقوق سے متعلق آئی سی سی کے موقف کی مکمل وضاحت چاہتے ہیں۔