LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نئے صوبے بننے چاہئیں یہ ہمارا حق ہے: سعد خورشید کانجو سویڈن میں بائیں بازو کی اپوزیشن نے حکمران اتحاد کو شکست دیدی عالمی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں دلچسپی دوبارہ بڑھ رہی : وزیر خزانہ کا دعویٰ انتظامی یونٹس یا نئے صوبے لازم ہو چکے ہیں: فاروق ستار حوثیوں کا سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع میں آرامکو تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش، جمعۃ المبارک ’’یومِ مذمت‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان پٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات ختم، 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان ملک میں جاگیرداروں اور وڈیروں کا راج، غریبوں پر ٹیکسز بڑھا ر ہے: حافظ نعیم الرحمان پاکستان کا بھارتی بحری جہاز کی خصوصی اقتصادی زون میں خلاف ورزی پر شدید احتجاج سہیل آفریدی کو لاہور میں ڈرامہ کرنا تھا تو الحمرا ہال کھلوا دیتی: عظمیٰ بخاری امریکا اور حوثیوں کے درمیان عمان میں خفیہ ملاقات کا انکشاف ایلون مسک کا اے آئی کے ممکنہ خطرات اور حفاظت پر کئی سال پہلے فکرمند ہونے کا انکشاف نواز شریف نے ڈاکٹر نجیب نقی خان کو صدر آزاد کشمیر نامزد کر دیا آن لائن بیٹنگ انکوائری: قومی کرکٹر محمد رضوان نے NCCIA کے نوٹسز کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا امریکی ایوان نمائندگان نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی

آن لائن بیٹنگ انکوائری: قومی کرکٹر محمد رضوان نے NCCIA کے نوٹسز کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

Web Desk

17 September 2026

پاکستان کے معروف کرکٹر اور قومی ٹیم کے کھلاڑی محمد رضوان نے ‘نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی’ (NCCIA) کی جانب سے جاری کردہ انکوائری نوٹسز کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن دائر کر دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں دائر کردہ اپنی درخواست میں محمد رضوان نے موقف اختیار کیا ہے کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق جاری انکوائری میں ان پر عائد کردہ الزامات مبہم اور غیر واضح ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی کے دفتر میں پیشی کے دوران بھی ان کو اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا کہ وہ کس قسم کی غیر قانونی سٹے بازی یا جوئے کی سرگرمی میں ملوث رہے ہیں۔

محمد رضوان نے اپنی درخواست میں مزید بتایا کہ پیشی کے موقع پر انہوں نے بارہا اپنے خلاف عائد کردہ الزامات اور غیر قانونی سرگرمیوں کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی، تاہم حکام کی جانب سے ان کے کسی سوال کا جواب فراہم نہیں کیا گیا۔ قومی کرکٹر نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر کرکٹ میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ‘آئی سی سی’ کا اینٹی کرپشن یونٹ (ACU) مکمل طور پر فعال ہے، اس لیے اگر کوئی غلط کاری ہوئی تھی تو ان کے خلاف کوئی بھی شکایت یا الزام ACU میں کیوں رپورٹ نہیں کیا گیا؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ این سی سی آئی اے کسی غیر واضح اور نامعلوم الزام کی بنیاد پر کارروائی اور تحقیقات کیوں کر رہی ہے، اور استدعا کی کہ عدالت اس غیر قانونی نوٹس کو کالعدم قرار دے