LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی امریکا کو پاکستان سے تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے: مارکو روبیو مولانا فضل الرحمان غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کریں، فرح عظیم شاہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے: امریکی وزیر خارجہ جام کمال خان کی زیر صدارت اجلاس، برآمدات میں اضافے اور صنعتی مسائل کے حل پر غور حکومت نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 1514 ارب روپے قرض لیا اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت گندم درآمد سے متعلق اجلاس، ملکی ذخائر اور طلب و رسد کا جائزہ نیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی ہدایت دی، امریکی مخالفت پر منصوبہ رک گیا: برطانوی اخبار روس یوکرین کے ساتھ سہ فریقی امن مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر آمادہ فرانسیسی صدر میکرون کا سعودی عرب کا غیر اعلانیہ دورہ، ولی عہد سے ملاقات متوقع امریکی شہر ٹولیڈو میں زہریلے کیمیکل کا ٹینک دھماکے سے پھٹ گیا ترکیہ کا سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے دفاعی تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ، سیاسی رہنماؤں کا انتظامی یونٹس بڑھانے پر زور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مبینہ حراست: پشاور ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری، آئی جی اور چیف سیکرٹری سے رپورٹ طلب

حوثیوں کا سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع میں آرامکو تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

Web Desk

17 September 2026

یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع میں واقع تیل کی ملٹی نیشنل کمپنی ’آرامکو‘ (Aramco) کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا نیا دعویٰ کیا ہے۔ حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے ایک باقاعدہ بیان میں دعویٰ کیا کہ آرامکو تنصیب کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی، جبکہ اس کے ساتھ ہی سعودی عرب کے اندر خمیس مشیط ایئربیس پر بھی ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے۔

حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے الزام عائد کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے رواں ہفتے کے دوران یمن میں حوثی مواضع پر 450 سے زائد فضائی حملے کیے گئے ہیں، اور آرامکو تنصیب سمیت فوجی ایئربیس پر کیے گئے یہ جوابی حملے اسی سعودی فضائی جارحیت کا ردِعمل ہیں۔ واضح رہے کہ حوثیوں کی جانب سے یہ نیا دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔